انوارالعلوم (جلد 9) — Page 285
انوار العلوم جلد 9 ۲۸۵ حق اليقين اسی طرح مثلاً قرآن کریم میں مسیح علیہ السلام کے ایک مثیل کی خبر سورہ تحریم میں بایں الفاظ دی گئی تھی کہ وَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عَمْرُنَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمْتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَ كَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ - یعنی مسلمانوں کی دو اقسام ہیں ایک تو وہ جو نیک تو ہوتے ہیں مگر کبھی بدی سے مغلوب بھی ہو جاتے ہیں اور ایک وہ جو بکلی پاک ہوتے ہیں مگر اس سے اوپر ایک ترقی کا درجہ بیان فرمایا ہے کہ یہ پاک لوگ جب اللہ تعالیٰ کی وحی سے مشرف ہوتے ہیں تو مریمی صفت سے ترقی کر کے اپنے اندر مردوں والی طاقت پیدا کر لیتے ہیں اور وہ درجہ مسیحیت کا درجہ ہے اور اس میں ایک مثیل مسیح کی خبر دی گئی ہے اسی طرح سورۃ زخرف کے چھٹے رکوع میں بیان فرمایا ہے وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلاً إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ - جب ابن مریم کو بطور مثال کے بیان کیا جاتا ہے تو تیری قوم اس پر تالیاں پیٹتی ہے سوائے اس کے کہ ایک مسیح کی آمد کی خبر دی گئی ہے اور کبھی بھی مسیح علیہ السلام کو قرآن کریم یا حدیث میں بطور مثال نہیں پیش کیا گیا پس اس میں بھی ایک مسیح کے رنگ میں رنگین شخص کی آمد کی خبر دی گئی تھی مگر اس نکتہ کو وہی سمجھ سکتا تھا جو یا تو معرفت میں ترقی یافتہ ہو یا پھر خود اس زمانہ کو پالے جس کے متعلق یہ اخبار تمھیں پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی ہدایت کے لئے ان الفاظ میں لوگوں کو خبر دے دی کہ آئیندہ زمانہ میں مسیح کا نزول ہونے والا ہے اگر آپ نہ بتاتے تو عوام الناس اس موعود کی انتظار ہرگز نہ کرتے اور اس کے قبول کرنے کی طرف انہیں کوئی توجہ نہ ہوتی۔ غرض احادیث قرآن کریم کے دقیق مسائل کی وہ تفسیر بھی بیان کرتی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیوں خود قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرز بیان نہ کر دیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض قلت تدبر کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر اس اعتراض کی روح کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو تفاوت مدارج اور حقیقت تدبر بالکل باطل ہو جائے کئی لوگ اس قدر علم بھی نہیں رکھتے کہ ان معمولی باتوں کو سمجھ سکیں جن کو علوم ظاہری رکھنے والا آدمی بھی ادنی تدبر سے سے سمجھ سکتا ہے لیکن جب وہ شخص ان اشخاص کو تفصیلاً سمجھاتا ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ کیوں اللہ تعالی نے انہیں الفاظ میں قرآن کریم کو نہ اتارا جن میں صافی یا رازی نے اس مطلب کو ادا کیا ہے تاکہ سب لوگ سمجھ سکتے۔ بے شک دوسرے انسانوں کے سمجھانے سے بعض