انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxxii
اله اور روحانی اذیت پہنچی۔ حکومت کی طرف سے مصنف پر مقدمہ چلایا گیا۔ ابتدائی عدالت سے اسے کچھ قید کی سزا ہوئی جو اپیل میں بھی قائم رہی لیکن ہائی کورٹ میں نگرانی کی درخواست پر حج کنور دلیپ سنگھ نے قرار دیا کہ نبی اکرم میں یہ کی توہین قانون کی زد میں نہیں آتی اور ملزم کو بری کر دیا۔ ان دنوں لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ "مسلم آؤٹ ملک " میں ایک اداریہ شائع ہوا جس میں حج کے فیصلہ پر تنقید کی گئی۔ اس پر اخبار کے مالک مولوی نور الحق صاحب اور پرنٹر سید دلاور شاہ صاحب (احمدی) کے نام توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔ سماعت کے بعد ا انہیں چھ ماہ قید اور جرمانہ کی سزا ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا یہ مضمون تحریر فرموده موده ۲۳ جون ۱۹۲۷ء) اس واقعہ کے متعلق ہے۔ حالات کا تجزیہ کرتے : کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ نے اس سزا کو نا درست قرار دیا کیونکہ مسلم آؤٹ لک کا اداریہ جائز تنقید سے تجاوز نہ تھا۔ حضور نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وقتی جوش سے کام نہیں چلتے۔ استقلال کے ساتھ کام کر کے ہی مسلمان موجودہ حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایک تو تبلیغ کی طرف پوری توجہ دینی چاہئے تاکہ ہماری تعداد بڑھے۔ دوسرے جس طرح ہندو ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں ہمیں بھی ان سے یہی سلوک کرنا چاہئے اور ان کی دکانوں سے کھانے پینے کی چیزیں نہیں خریدنی چاہئیں۔ بلکہ خود ایسی دکانیں بنائیں تاکہ مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔ تیسری بات اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ اور ان کا حصول ہے۔ اس کے لئے بھی پوری کوشش کی ضرورت ہے۔ تب ہی مسلمان ترقی کر سکتے ہیں۔ (۲۳) مذہبی رواداری کی بے نظیر مثال قادیان کے کچھ سکھ صاحبان حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب (سابق مهر سنگھ) کی کتاب ”گورو نانک صاحب کا مذہب" میں ان کے پیشواؤں پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس پر حضور نے صیغہ تالیف و تصنیف سے رہا رپورٹ طلب فرمائی۔ رپورٹ پڑھ کر حضور اس نتیجہ پر پہنچے کہ گو یہ کتاب قانون کی زد میں نہیں آتی مگر سکھوں کا دل دکھانے کیلئے کافی ہے۔ اس پر حضور نے اس کتاب کو ضبط کر کے بے نظیر رواداری کی مثال قائم آپ نے مؤرخہ ہے جوا جولائی ۱۹۲۷ء کو مذہبی رواداری کی بے نظیر مثال" ر مثال" کے عنوان پر کی۔ آپ نے