انوارالعلوم (جلد 9) — Page 274
انوار العلوم جلد 8 ۲۷۴ احمد کی خواتین کی تعلیم و تربیت میں موجود ہیں تو وہ ہم پر نہیں گے جب تک کہ ہم ان باتوں پر عمل کر کے نہ دکھائیں۔ میں نے بتایا تھا کہ یورپین تمدن کی وہ باتیں جو قرآن کریم اور حدیث کے ماتحت نہیں ان کو تو رد کر دینا چاہئے لیکن جو قرآن اور حدیث میں موجود ہیں انہیں اختیار کر لینا چاہئے۔ مگر اس طرف توجہ نہ ہوئی اور اس بارے میں اتنی روک مردوں کی طرف سے نہیں ہے جتنی عورتوں کی طرف سے ہے۔ عورتوں میں اتنی دلیری نہیں ہے کہ وہ پرانی رسموں اور رواجوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اگر چہ ہم اس وقت پورے طور پر اس بات کا فیصلہ نہ کر سکیں کہ عورتوں کو کس حد تک مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے مگر یہ تو موٹی بات ہے کہ اسلام نے مردوں عورتوں کا اتحاد ایک حد تک ضروری قرار دیا ہے۔ اسلام نے مرد عورت کا ایک حد تک ملنا منع رکھا ہے مگر ضرورتوں کے موقع پر ایک حد تک ملنا جائز بھی رکھا ہے۔ حدیث میں آتا ہے اگر مرد سوار ہو اور عورت پیدل جا رہی ہو تو عورت کو اپنے پیچھے سوار کرلے لیے جب ایک مرد ایک عورت کو اس طرح سوار کر کے گھر پہنچا سکتا ہے تو قومی اور مذہبی کاموں میں کیوں مرد و عورت مل کر کام نہیں کر سکتے۔ وہ وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب مرد و عورتیں مل کر کام کریں گے۔ معلوم نہیں ہماری زندگی میں آتا ہے یا بعد میں مگر آئے گا ضرور۔ البتہ ڈر ہے تو اس بات کا کہ عورتوں کو اسلام نے جو آزادی دی ہے وہ نہ دینے کی وجہ سے وہ حدود بھی نہ ٹوٹ جائیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں۔ ماسٹر محمد دین صاحب نے اپنی تقریر میں ایک نکتہ بیان کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ اگلے جہاں کی جنت تو الگ رہی اس دنیا کی جنت بھی ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ تعلیم و تربیت کا جس قدر اثر بچہ پر ہوتا ہے اتنا اور کسی چیز کا نہیں ہوتا اور یہ ماں کے سپرد ہوتی ہے۔ ہمیں تعلیم و تربیت میں جس قدر مشکلات درپیش ہیں ان میں عورتوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ عورتیں کہتی ہیں ہمیں پیچھے رکھا ہوا ہے ہمیں کوئی کام نہیں دیا جاتا۔ میں کسی پر الزام نہیں لگاتا۔ مگر اس ظلم کی و وجہ سے جو متواتر عورتوں پر ؟ عورتوں پر ہوتا چلا آیا ہے اور وہ گری ہوئی ہیں میں یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا تھا کہ وہ خود بھی ہمت نہیں کرتیں کہ ہمارا ہاتھ بٹائیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ عورتوں کے لئے کوئی باہر کا کام کرنا یا ملازمت کرنا نا جائز ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ عورتوں کے کثیر حصہ کا کام گھر میں ہی ہے۔ یورپ میں جہاں اتنی آزادی اور اتنی تعلیم ہے وہاں بھی نوے فیصدی عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں کیونکہ یہ نا ممکن ہے کہ عورتیں کثرت سے مردوں کی طرح کاروبار میں حصہ لے سکیں جب تک یہ فیصلہ نہ ہو جائے کہ نہ ان کی