انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxx of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxx

۲۲ میں یہ واقعات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اور ہمیں یہ عہد کرنا چاہیئے کہ ہندوستان کے ہر گھر میں اسلامی تعلیم کو قائم کر دیں تا نہ یہ اختلاف مذاہب رہے اور نہ یہ خونریزیاں ہوں۔ ان تمام فسادات کا علاج صرف تبلیغ اسلام ہے۔" (۱۹) آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت دن بدن کمزور ہو رہی تھی۔ ان کے معاشی اور تمدنی حالات روبہ تنزل تھے۔ تجارت اور صنعت و حرفت ان کے ہاتھ سے جاتی رہی۔ ہر شعبہ زندگی میں وہ ناکام ہو رہے تھے اور ہندو ترقی پر ترقی کر رہے تھے۔ ہندوؤں نے معاشی، تمدنی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کے بعد اب مسلمانوں کے مذہب پر بھی دست درازی شروع کر دی۔ شدھی اور سنگھٹن کی تحریک جاری کر کے ہندو لیڈروں نے صاف اعلان کر دیا کہ ہندوستان میں ہندو ہی رہ سکتے ہیں مسلمان ہندو ہو جائیں یا ملک چھوڑ جائیں۔ ان کٹھن حالات میں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے حضور نے مسلمانوں کو بیدار کرنا ضروری سمجھا۔ اس غرض کے لئے آپ نے صیغہ ترقی اسلام قادیان" قائم کیا۔ محترم چوہدری فتح محمد سیال صاحب اس کے سیکرٹری تھے۔ مسلمانوں کی فلاح و بہود کیلئے حضور نے بتیں نکات پر مشتمل ایک سکیم تیار کی جو ۱۷ اور ۲۴۰ مئی ۱۹۲۷ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔ اس سکیم کی روشنی میں مسلمانوں سے رابطہ رکھنا اور ان کی راہنمائی کرنا اس صیغہ کا کام تھا۔ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : وقت نازک ہے اور حالات دم بدم بدل رہے ہیں۔ ایک ایک منٹ کی دیر خطرناک ہے۔ آپ سوچ لیں کہ کیا آپ سپین کی طرح اسلام اور مسلمانوں کا نام ہندوستان سے مٹ جانے پر راضی ہیں۔ اگر نہیں تو پھر اس جدوجہد کیلئے تیار ہو جائیں۔"