انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 264

انوار العلوم جلد 9 고 مستورات سے خطاب زمین کو پیٹتا ہے۔ عورتیں کہتی ہیں۔ آؤ زمین کو پیٹیں اس نے کیوں تمہیں گرایا۔ مگر یہ محض ایک تماشا ہوتا ہے۔ جو بچہ کے بہلانے کے لئے ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ انسان کو اختیار اس لئے دیا۔ کہ چاہے بڑھ چڑھ کر انعام لے جائے چاہے سزا کا مستحق ہو جائے۔ کئی مسلمان مرد اور عورتیں کہتی ہیں کہ جو کچھ اللہ تعالی نے ہمیں بنانا تھا بنا دیا ہمیں کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو بتلاؤ پھر اب خدا کا کیا حق ہے کہ ہم میں سے کسی کو سزا دے یا انعام۔ دیکھو آگ کا کام خدا نے جلانا اور پانی کا کام ڈبونا رکھا ہے۔ اب اگر کوئی کسی چیز کے جلنے پر آگ کو یا ڈبونے پر پانی کو مارے تو چوہڑی چماری بھی کہے گی یہ پاگل ہے۔ مگر تم میں سے بہت سی عورتیں جو کہتی ہیں اگر ہماری تقدیر میں جنم ہے تو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور اگر بہشت ہے تو بہشت میں جائیں گے کچھ کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ دیکھو پانی یا آگ کو مارنے والی عورت کو تمام پاگل کہتے ہیں اس لئے کہ آگ یا پانی کا جو کام تھا اس نے وہی کیا۔ پھر خدا اگر انسان کو ایک کام کرنے کے لئے مجبور بنا کر پھر سزا دیتا تو کیا نَعُوذُ بِاللهِ لوگ اسے پاگل نہ کہتے۔ کیونکہ اس آدمی نے تو وہی کام کیا جو اس کی تقدیر میں تھا پھر چور، ڈاکو ، جواری سب انعام کے قابل ہیں کیونکہ انہوں نے وہی کام کیا جو ان کے مقدر میں تھا اور جس کام کے لئے وہ پیدا کئے گئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی تردید فرماتا ہے اور کہتا ہے اگر جبر ہوتا تو کافر نہ ہوتے۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو مار مار کے لوگوں سے کہے کہ مجھ کو گالیاں دو یا میرے بچہ کو مارو۔ جب تم میں سے کوئی ایسا نہیں کرتا تو خدا نے جو زبان دی، کان دیئے تو کیا اس لئے کہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو گالیاں دو۔ جب دنیا میں کوئی کسی کو اپنے ساتھ برائی کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کیوں لوگوں کو برے کاموں کے لئے مجبور کرنے لگا۔ اگر اس نے مجبور ہی کرنا ہوتا تو سب کو نیکی کے لئے مجبور کرتا۔ پس یہ غلط خیال ہے اور خدا اس کو رو کرتا ہے۔ عورتوں میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے۔ کسی کا بیٹا بیمار ہو جائے تو کہتی ہے تقدیر یہی تھی۔ کوئی اور بات ہو جائے تو تقدیر کے سر تھوپ دیتی ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ہر بات تقدیر سے ہی ہوتی ہے اور انسان کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا تو ایک عورت روٹی کیوں پکاتی ہے تقدیر میں ہو گی تو خود بخود پک جائے گی۔ رات کو لحاف کیوں اوڑھتی ہے اگر تقدیر میں ہو گا تو خود بخود سب کام ہو جائے گا مگر ایسا کوئی نہیں کرتا۔ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آرہا تھا اسی گاڑی میں پیر جماعت علی شاہ صاحب لاہور سے سوار ہوئے۔ حضرت صاحب ایک دفعہ سیالکوٹ گئے تو انہوں نے یہ فتوی دیا