انوارالعلوم (جلد 9) — Page 261
انوار العلوم جلد 9 مستورات سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۲۵ء بر موقع جلسه سالانه ) حضور نے سورۃ الدھر کے پہلے رکوع کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ اس سورۃ میں بلکہ اس رکوع میں جو میں نے پڑھا ہے اللہ تعالی نے انسان کی زندگی کے ابتدائی، درمیانی و آخیری انجام بتائے ہیں اس لئے یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے کامل رکوع 4 کرتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا - دنیا میں انسان گناہ کا مرتکب تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور تکبر اس کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ وہ باوجود آنکھوں کے نہیں دیکھتا اور باوجود کانوں کے نہیں سنتا۔ اور وہ یہ نہیں جانتا کہ ہر ایک انسان پر ایک زمانہ ایسا آیا ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، فقیر ہو یا بادشاہ، کہ اس کا ذکر دنیا میں کوئی نہ تھا۔ ہر ایک شخص اپنی زندگی پر غور کر کے دیکھ لے۔ جس کی عمر آج چالیس سال کی ہے اکتالیس سال پہلے اس کو کون جانتا تھا۔ جس کی عمر پچاس سال کی ہے اک دن سال پہلے اس کو کون جانتا تھا۔ پس چاہے کتنا ہی بڑا انسان ہو خیال کرے کہ اس کی زندگی شروع کہاں سے ہوئی ہے۔ دنیا تو پہلے سے آباد چلی آرہی ہے۔ اور جب اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی دنیا آباد تھی اور یہ بعد میں آیا اور اس کے نہ آنے سے پہلے کوئی نقصان نہیں تھا اور دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا جابر و فاتح بادشاہ جو گذرا ہے۔ اس کے نہ رہنے اور مر جانے سے دنیا کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور دنیا ویسے ہی آباد چلی آرہی ہے۔ بڑے بڑے بادشاہ جو ایک وقت حکومت کرتے تھے ایک وقت آیا کہ ان کو کوئی جانتا بھی نہ