انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxviii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxviii

۲۰ حضور نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے ہندو مسلم فساد کی وجوہات بیان کیں۔ آپ نے فرمایا کہ سیاسی اور مذہبی رواداری کا فقدان اس فساد کی بنیادی وجہ ہے۔ جب تک یہ نقص دور نہ ہو دونوں قوموں میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ اسلام رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔ ہندو بھی رواداری پر عمل کریں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کے بزرگوں کو بڑا کہتے ہیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ باہمی رواداری پیدا کرنے کا ہی طریق ہے۔ حضور نے اس خیال کی تفصیل سے تردید فرمائی کہ اسلام جبر سے پھیلا ہے یا جبر کی تائید کرتا ہے۔ آخر میں آپ نے مسلمانوں کو اپنی اصلاح اتحاد اور تبلیغ کی طرف توجہ دلائی کہ یہ امور ان کی حفاظت اور ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ (۱۷) مذہب اور سائنس یہ لیکچر حضور نے سائنس یونین اسلامیہ کالج لاہور کی درخواست پر ۳ مارچ ۱۹۲۷ء کو حبیبیہ ہال میں زیر صدارت ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب دیا۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے متصادم ہیں۔ حضور نے اس خیال کی تردید کی اور فرمایا کہ بچے مذہب اور درست سائنس میں کوئی تصادم نہیں۔ فرمایا۔ ذہب اور سائنس میں مقابلہ ہی کوئی نہیں۔ کیونکہ مذہب خدا کا کلام ہے اور سائنس خدا کا فعل اور کسی عقلمند کے قول اور فعل میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر کوئی جھوٹا ہو یا پاگل ہو تو اختلاف ہو گا خدا کے متعلق دونوں باتیں ممکن نہیں۔ کیونکہ خدا ناقص العقل یا ناقص الاخلاق نہیں۔ پس خدا کے قول اور فعل میں فرق نہیں۔ اس لئے مذہب اور سائنس میں بھی تصادم نہیں۔" حضور نے مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ :۔ در اصل بعض دفعہ انسان کا دماغ خدا تعالیٰ کے فعل کو اور بعض دفعہ خدا تعالٰی کے قول کو سمجھنے میں غلطی کر جاتا ہے : غلطی کر جاتا ہے جس سے سا سائنس اور مذہب میں اختلاف نظر آتا ہے۔ ورنہ حقیقت میں تو سائنس ہمیشہ مذہب کی تائید کرتی ہے۔ حضور نے مثالیں دے کر واضح کیا کہ اسلامی تعلیم کی سائنس سے تائید ہوتی۔ صفائی اور صحت