انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 236

انوار العلوم جلد 9 ۲۳۶ منهاج الطالبين کہ عبادت کرے۔ پھر فرماتا ہے۔ وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبِّكَ عَطَاء غَيْرَ مَجدُود ے کہ انسان کو کبھی ختم نہ ہونے والی نعماء کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ بعض باتیں نہ کرے بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ کرے۔ چنانچہ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ فلاں کام نہ کرے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ عبادت کرے۔ پس ہم دنیا میں کام کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں نہ اس لئے کہ کچھ نہ کریں۔ نفی بطور پر ہیز کے ہوتی ہے یعنی مقصد کے حصول میں جو روکیں ہیں اُن کو الگ کر دو۔ لیکن مقصد نفی نہیں ہوتا۔ اگر پیدائش انسانی کی غرض نفی ہوتی تو اس کے پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ وہ غرض تو اس کے پیدا نہ ہونے کی صورت میں زیادہ اچھی طرح پوری ہو رہی تھی۔ یہ غرض تو ایسی ہے جیسے ہندوؤں کے خدا کی تعریف کہ وہ یہ بھی نہیں اور وہ بھی نہیں۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو نفی کے لئے نہیں بلکہ اثبات کے لئے پیدا کیا ہے۔ گو نفی بطور پر ہیز کے شامل ہو۔ پس اصل بحث یہ ہے کہ انسان کیا کیا بنے نہ یہ کہ کیا کیا نہ بنے۔ دوسری بات جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے یہ ہے کہ نفس کی مثال گھوڑے کی سی ہے بے شک گھوڑے کو ورزش کرانی چاہئے اور اتنا دبلا رکھنا چاہئے کہ خواہ مخواہ سوار کو نہ گرا دے مگر کیا کوئی شخص ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ گھوڑے کو ڈبلا کر کر کے سوار بن گیا ہو۔ ایک سفر میں ایک دوست جو سوار نہ تھے کہنے لگے۔ میں گھوڑے پر سوار نہیں ہونگا۔ اگر سوار کرانا ہے تو کوئی ڈیلا گھوڑا لاؤ۔ اُن کے کہنے پر ایک ڈبلا گھوڑا لایا گیا تو وہ اُس سے بھی خوف ہی ظاہر کرتے رہے اور کہنے لگے کہ کیا اس سے دُبلا اور چھوٹا کوئی گھوڑا نہیں؟ پس اگر سواری نہ آتی ہو تو گھوڑے کو ڈبلا کرنے سے نہیں آسکتی۔ اس لئے نفس کو دبلا کر کے یہ سمجھتا کہ ہم اس پر قابو پالیں گے اور پھر جس طرح چاہیں گے اُسے چلائیں گے ایک وہم ہے۔ صرف نفس کے دُبلا کرنے سے نہیں بلکہ اُس پر قابو پانے کا ہنر سیکھنے سے نفس پر قابو ہو گا۔ تیسری بات جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے یہ ہے کہ گناہ نفس کے قبضہ میں آجانے سے ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ نفس کے مرجانے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ مثلا بے غیرتی ہے۔ یہ نفس کے مر جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر تو یہ ضرورت ہوتی ہے کہ نفس میں طاقت پیدا کی لویہ