انوارالعلوم (جلد 9) — Page 234
انوار العلوم جلد و ہوتا ہے۔ ۲۳۴ منهاج الطالبين (۴) جب یہ تینوں باتیں کرلے تو چہارم یہ کرے کہ تو بہ کرے۔ توبہ کا مفہوم یہ ہے (1) گذشہ گناہوں پر ندامت۔ یہ حالت دل میں پیدا ہو۔ (۲) جو فرائض ادا کرنے سے رہ گئے ہوں وہ ادا کرے۔ مثلا حج رہ گیا ہے وہ کرے۔ مگر نماز ایک ایسا فرض ہے کہ وہ رہا ہوا پھر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے استغفار ہی ہے۔ (۳) جو گناہ خدا نے چھپائے ہوئے ہوں یعنی جن پر خدا تعالی نے پردہ ڈالا ہو اُن کے علاوہ جس جس کے گناہ یاد ہوں اس سے معافی مانگے۔ (۴) جن کو اس سے نقصان پہنچ چکا ہو ان کو فائدہ پہنچائے یعنی اُن سے حسن سلوک کرے۔ (۵) آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرے۔ (۶) نفس کو نیکی کی طرف راغب کرے۔ یہ توبہ کی شرطیں ہیں ان کو بجالائے تب تو یہ حقیقی تو بہ کہلا سکے گی اور منظور ہو گی۔ انسان (۵) تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللَّهُ قِ اللهِ ۳۸ کی حالت پیدا کرے۔ یہ نہ خیال کرنے کہا اخلاص نہیں ہے بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر نیک کام کرتا ہی جائے۔ مثلا صدقہ دینے پر تکلیف ہو تو دیتا ہی رہے یا نماز میں توجہ نہ قائم رہے تو بار بار پڑھتا رہے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کا فرض یہی ہے کہ کام میں لگا رہے اور ہمت نہ ہارے۔ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے۔ ایک مرید اپنے پیر کو ملنے کے لئے آیا اور انہیں کے پاس ٹھر گیا۔ رات کو پیر صاحب دعا کرتے رہے کہ الہی فلاں کام ہو جائے۔ آخر آواز آئی یہ کام تو نہیں ہو گا۔ یہ آواز مرید نے بھی سن لی۔ اس پر وہ حیران ہوا کہ اچھے پیر صاحب ہیں ہم تو ان سے دعا کرانے کے لئے آتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں یہ جواب ملتا ہے کہ تمہاری دعا منظور نہیں کی جائے گی۔ خیر وہ چپکا ہو رہا۔ دوسرے دن پھر اُسی طرح ہوا کہ پیر صاحب ساری رات دُعا کرتے رہے۔ آخر انہیں پھر وہی جواب ملا۔ مرید اور بھی زیادہ حیران ہوا۔ تیسرے دن پھر اسی طرح ہوا۔ آخر مرید نے انہیں کہا۔ تین دن سے آپ کوئی دعا کر رہے ہیں جس کے متعلق الہام ہوتا ہے کہ نہیں سنی جائے گی پھر کیوں آپ دُعا کرتے چلے جاتے ہیں۔ پیر صاحب نے کہا۔ ناران! میں تو ہیں سال سے یہی دعا کر رہا ہوں اور مجھے یہی الہام ہو رہا ہے مگر میں نہیں گھبرایا اور تو تین دن جواب سن کر گھبرا گیا ہے۔ بات یہ ہے کہ خدا کا کام قبول کرنا یا نہ کرنا ہے اور میرا کام دُعامانگنا ہے۔ وہ اپنا کام کر رہا ہے اور میں اپنا کام کر رہا ہوں۔ لکھا ہے اس پر معا الہام ہوا کہ اس عرصہ میں تم نے جتنی دُعائیں کی ہیں سب قبول کی گئیں۔