انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 231

انوار العلوم جلد 9 اللہ کا ادب۔ ۲۳۱ منهاج الطالبين آب میں دوسرے سوال کو لیتا ہوں کہ کونسے مواقع ہیں کہ جن میں ان اعمال کو برتا یا ترک کیا جائے۔ اس کے جواب دو ہیں ایک اجمالی اور دوسرا تفصیلی۔ اگر تفصیلی جواب بیان کرنا چاہوں اور اس میں بھی اختصار سے کام لوں تب بھی کم از کم پندرہ میں گھنٹے چاہئیں اس لئے میں اجمال کو لیتا ہوں اور موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں۔ (1) وہ حق جو اللہ تعالیٰ کے بندے پر ہیں اس وقت تک اُن کو ترک نہ کرے جب تک مجبور نہ ہو جائے یا خدا تعالیٰ کا کوئی دوسرا حکم اُن سے روک نہ دے۔ مثلا ہاتھ یا منہ پر زخم ہے اس وجہ سے وضو نہیں کر سکتا یا ہاتھ ہی نہیں اس لئے اُسے دھو نہیں سکتا۔ یہ مجبوری ہے۔ اور دوسرا حکم مقابلہ میں آجانے کی مثال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے عورت پردہ کرے لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ حج کے موقع پر خانہ کعبہ میں پردہ اٹھا دینا چاہئے۔ یہ دوسرا حکم پہلے کے مقابلہ میں آگیا اور اس کی وجہ سے خانہ کعبہ میں پر وہ نہ کرنا ہی نیکی ہے۔ یا مثلاً حکم ہے۔ ا مثلاً حکم ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کرو۔ یہ نیکی ہے لیکن اگر ماں باپ کا کوئی حکم خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں آجائے تو اس وقت اُس کا نہ ماننا ہی نیکی ہوگی۔ (۲) دوسرے کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کرے کہ جس کا ویسے ہی حالات میں کرنا اپنے لئے پسند نہ کرتا ہو میں اس میں ایک شرط لگاتا ہوں اور وہ یہ کہ میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے سے وہ معاملہ کرے جو یہ پسند کرتا ہو۔ بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی بات دوسرے کے ساتھ ایسی نہ کرے جسے ویسے ہی حالات میں اپنے لئے پسند نہ کرے یا دوسرے کے ساتھ وہ سلوک نہ کرے جو ویسے ہی حالات میں اپنے لئے پسند نہ کرتا ہو۔ انجیل کا حکم ہے کہ تو دوسرے کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر جیسا اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ مگر یہ حکم صحیح نہیں ہے۔ (۳) افراط و تفریط کا خیال رکھے۔ بعض لوگ ہوتے ہیں وہ یا تو نفل پڑھنے ہی چھوڑ دیتے ہیں یا پھر اتنے پڑھتے ہیں کہ گھر بار کی فکر ہی نہیں کرتے۔ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی کے متعلق شکایت آئی کہ وہ وہ دن دن کو کو روزہ روزہ رکھتا رک ہے اور رات کو نفل پڑھتا پڑھتا رہتا۔ رہتا ہے۔ آپ نے نے اُسے بلا کر فرمایا: وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ ۔ کہ تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے یعنی تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اُسے بھی ادا کرنا ضروری ہے۔ (۴) انسان اس رنگ میں عمل کرے کہ خدا تعالیٰ کی صفت کے ظہور سے ویسا ہی رنگ پیدا