انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 223

انوار العلوم جلد 9 ۲۲۳ منهاج الطالبين میں اس سے وہ لعنت مستثنی کرتا ہوں جو بد دعا کے طور پر نہیں بلکہ اظہار واقعہ کے طور پر ہوتی ہے اور وہ نبی کی طرف سے لعنت ہوتی ہے۔ وہ بد دعا نہیں ہوتی بلکہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ جس پر لعنت کی جاتی ہے اس کا دل ناپاک ہو گیا ہے۔ (۸) خیانت کسی نے مال دیا۔ تو اُسے واپس نہ دیا یا پورا نہ دیا۔ (۹) انشاء رازے کسی کا کوئی راز معلوم ہوا تو اُسے ظاہر کر دیا۔ مگر یہ کبھی بدی نہیں بھی رہتی۔ مثلاً ایسے وقت میں جب کسی دوسرے کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اُسے نقصان سے بچانے کے لئے راز افشاء کرنا بڑا نہیں ہوتا۔ مثلاً کسی کو معلوم ہو کہ ایک شخص کا ارادہ ہے کہ زید کو قتل کر دے۔ اب اگر زید کو یہ بات بتادی جائے تو یہ بدی نہیں ہو گی بلکہ اس کا چھپانا بدی ہو گا۔ اسی طرح حکومت کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے اُسے بدنام کرتا ہے یا اُسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو جس کو یه راز معلوم ہو اُس کا فرض ہے کہ ذمہ دار آدمیوں تک یہ بات پہنچائے۔ (۱۰) چغل خوری (۱۱) بشاشت سے نہ ملنا۔ اس سے دوسرے کے قلب پر بڑا اثر پڑتا ہے اور تعلقات محبت قطع ہو جاتے ہیں۔ (۱۲) ناواجب طرفداری دو آدمی لڑ رہے ہوں اُن میں ایک دوست ہو تو اس کی بیجا حمایت (۱۳) دھوکا بازی (۱۴) بجل (۱۵) ظلم (۱۶) ظاہری ناشکری یعنی جس کا احسان ہو اس کے کی جائے۔ متعلق یہ کہنا کہ اس نے کبھی احسان نہیں کیا۔ (۱۷) غلاظت (۱۸) غفلت، (۱۹) جھگڑا (۲۰) فساد میں ان کی تشریح چھوڑتا ہوں کیونکہ لوگ یہ باتیں جانتے ہیں۔ (۲۱) شور مچانا بازاروں میں کھڑے ہو کر شور مچانا یا اجتماع میں ادھر ادھر کی باتیں کر کے شور پیدا کرنا۔ اور کام کرنے والوں کے کام میں حرج پیدا کرنا بھی ایک بہت بڑا عیب ہے۔ اہل یورپ کو میں نے دیکھا ہے اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ مجالس میں جونہی ایک طرف سے خاموشی شروع ہو سب خاموش ہو جاتے ہیں اس لئے کہ جو خاموش ہو گئے انہیں ہماری آواز سے تکلیف نہ پہنچے۔ (۲۲) ایذاء رسانی (۲۳) جبر (۲۴) ڈاکہ، (۲۵) قتل (۲۶) چوری میں : انتظار کر رہا تھا کہ اس کے متعلق ہی کوئی سوال آئے۔ چنانچہ ایک دوست سوال کرتے ہیں کہ لوگ مراسم دوستانہ