انوارالعلوم (جلد 9) — Page 192
انوار العلوم جلد و منهاج الطالبين اکثر لوگوں میں کمزوریاں نظر آتی ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اکثر لوگوں میں بدیاں نظر آتی ہیں یا نیکیاں اگر اکثر لوگوں میں اکثر نیکیاں نظر آتی ہیں تو نیکی دنیا میں زیادہ ہوئی۔ اور ہر شخص جو انسانوں کے مجموعی اعمال پر نظر کریگا اسے معلوم ہو گا کہ انسانوں کے اعمال کو مجموعی طور پر دیکھ کر یہی ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں میں اکثر نیکیاں ہیں اور کم بدیاں ہیں۔ پس دُنیا میں بدی کم ہوئی اور نیکی زیادہ۔ بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ خواہ کچھ ہو اگر اکثر لوگوں کو سزا ملنی ہے تو پھر شیطان جیتا۔ میں کہتا ہوں نہیں، پھر بھی خدا ہی جیتا اور وہ اس طرح کہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ سزا بھگت کر سارے کے سارے انسان جنت میں چلے جائیں گے۔ چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے۔ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - میں نے انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے بندے بن جائیں۔ اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ لوگ خدا کے بندے بن کر بھی سزا میں پڑے ہیں پس معلوم ہوا کہ ایک وقت سب کے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ چنانچہ دوسری آیات اور احادیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت سب کے سب لوگ جنت میں چلے جائیں گے۔ اس لئے سارے خدا کے عبد ہو گئے اور خدا ہی جیتا۔ پھر شیطان بھی کہاں بیٹھا رہے گا، وہ بھی جنت میں چلا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے نفس کے لحاظ سے بھی ہار گیا۔ اب وہ جو کہتے ہیں شیطان جیتا وہ شیطان کو بھی جنت میں دیکھ کر شرمائیں گے کہ ہم تو اسے جتا رہے تھے یہ خود بھی یہیں آگیا۔ اب پھر میں باکمال انسان کی تعریف زہراتا ہوں۔ باکمال وہ انسان ہے جو اس حد تک گناہ سے بچے کہ اس کی روح ہلاکت اُخروی سے بچ جائے۔ ہلاکت اُخروی سے مراد خدا تعالیٰ کی ناراضی ہے) اور اس حد تک نیکی کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضاء کی طرف قدم مارنے کی فوری قوت اس میں پیدا ہو جائے۔ ورنہ یوں تو یہ قوت سب میں پیدا ہو گی۔ گناہ کیا ہے؟ آپ میں یہ بتاتا ہوں کہ گناہ کیا ہے۔ گناہ وہ عمل ہے کہ جس سے انسان کی روح بیمار ہو جاتی ہے اور رؤیت الہی کے قابل نہیں رہتی اور اس کے لئے اس سفر میں دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں جس کے لئے اسے پیدا اسے پیدا کیا گیا ہے۔ ان اعمال میں سے بعض مادی ہیں اور بعض روحانی۔ جو مادی ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیں کہ جن کی معرات نظر آتی ہیں۔ جیسے جھوٹ، قتل وغیرہ کے ارتکاب کا نقصان عیاں ہوتا ہے۔