انوارالعلوم (جلد 9) — Page 190
انوار العلوم جلد 9 ۱۹۰ منهاج الطالبين ذات میں ایک معجزہ ہے بلکہ اتنا بڑا معجزہ ہے کہ وہی آپ کی صداقت کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔ قرآن کریم کو چھوڑ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کا وہی منبع ہے اور کسی نے اس حقیقت کو بیان نہیں کیا۔ آپ نے ایسے الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ وہ دل کو اُمید سے پُر کر دیتے ہیں۔ آپ جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔ یہ خیال نہ کرو کہ ہم گنہگار ہیں ہماری دعا کیونکر قبول ہو گی۔ انسان خطا کرتا ہے مگر دعا کے ساتھ آخر نفس پر غالب آجاتا ہے اور نفس کو پامال کر دیتا ہے کیونکہ خدا تعالٰی نے انسان کے اندر یہ قوت بھی فطر تا رکھ دی ہے کہ وہ نفس پر غالب آجائے۔ دیکھو پانی کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ آگ کو بجھا دے۔ پس پانی کو کیسا ہی گرم کرو اور آگ کی طرح کر دو پھر بھی جب وہ آگ پر پڑے گا تو ضرور ہے کہ آگ کو بجھادے جیسا کہ پانی کی فطرت میں برودت ہے ایساہی انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک مختص میں خدا تعالیٰ نے پاکیزگی کا مادہ رکھ دیا ہوا ہے۔ اس سے مت گھبراؤ کہ ہم گناہ میں ملوث ہیں۔ گناہ اس میل کی طرح ہے جو کپڑے پر ہوتی ہے اور ڈور کی جاسکتی ہے۔ تمہارے طبائع کیسے ہی جذبات نفسانی کے ماتحت ہوں خدا تعالی سے رو رو کر دعا اسے کرتے رہو تو وہ ضائع نہ کرے گا۔ وہ حلیم ہے، وہ غفور رحیم ہے"۔ یہ ایسا پر اُمید پیغام ہے کہ گو اجمالی طور پر قرآن کریم میں پایا جاتا ہے مگر اور کسی کتاب میں اس کو اس رنگ میں نہیں بیان کیا۔ جس رنگ میں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اجمال کے طور پر قرآن کریم سے اس بیش بہا تعلیم کو لیا ہے اور کسی کتاب نے بیان نہیں کیا۔ اور تشریح کو مد نظر رکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کمال کر دیا ہے۔ اوپر کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان میں ایسا مادہ ہے کہ جب بھی اس کو کام میں لایا جائے سب گناہوں کو دور کر دیتا ہے اور اصلاح کر دیتا ہے۔ فطرت کا میلان نیکی کی طرف ہے یا بدی کی طرف اس جگہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر فطرت کا میلان نیکی کی طرف ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فطرت کا میلان نہ نیکی کی طرف ہے نہ بدی کی طرف۔ ہاں اللہ تعالی نے انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیتیں دیکر بھیجا ہے اور اسے مقدرت انا دی ہے کہ وہ انہیں نیک و بد طور پر استعمال کر سکے۔ پھر وہ اسے سیدھا راستہ دکھا کر چھوڑ دیتا ہے۔