انوارالعلوم (جلد 9) — Page 181
انوار العلوم جلد و معهاج الطالبين ہے مگر میز میں نہیں گھس سکتی کیونکہ یہ اس کے اثر کو قبول نہیں کرتی۔ اس سے معلوم ہوا تبھی کوئی کام ہو سکتا ہے جبکہ ایک طرف کام کرنے کی طاقت اور دوسری طرف اثر قبول کرنے کی قابلیت ہو۔ ہر ذرہ جو پایا جاتا ہے اس میں کھینچنے اور کھینچے جانے کی طاقت ہے۔ پہلی باطنی جهت جذب یعنی کھینچنے کی طاقت ہے اور اس کے ساتھ کی میل یعنی جھکنا۔ جب موافق سامان پیدا ہو جائیں گے وہ کھینچنے لگ جائے گایا دوسری طرف کھینچ جائے گا۔ اسی طرح دوسری جہت دفع کی ہے اور اس کے ساتھ کی دوسری طاقت اعراض کی۔ تیسری خصوصیت ہر ذرہ میں افتاء کی ہے۔ ہر چیز جو اپنا وجود قائم کرتی ہے دوسری اشیاء کو فنا کرتی ہے۔ مثلاً میں اپنا ہاتھ یہاں سے اُٹھا کر وہاں رکھوں تو پہلے ہاتھ رکھنے کی جو شکل بنی تھی وہ فتا کر کے دوسری بنائی گئی۔ اسی طرح ذرات جب اثر قبول کر کے نئی شکل اختیار کرتے ہیں تو پہلی پر فتا وارد ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابل کی خصوصیت فنا کی ہوتی ہے۔ یعنی ہر ذرہ میں جہاں دوسرے کو فنا کرنے کی قابلیت ہے وہاں اس میں خود فنا ہونے کی بھی قابلیت ہے۔ چوتھی خصوصیت ابقاء کی ہے۔ کوئی چیز گراؤ آگے دیوار ہو تو وہ اُسے ٹھہرا لے گی۔ یہ باقی رکھنے کی طاقت ہے۔ اس کے مقابل کی خصوصیت بقاء ہے یعنی باقی رہنے کی قابلیت۔ پانچویں خصوصیت اظہار کی ہے۔ یعنی بعض چیزوں کو اُبھارنا، ظاہر کرنا۔ ہر ذرہ دوسرے کو اُبھارتا ہے، اسے موٹا اور نمایاں کر دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ کی خصوصیت ظہور ہے یعنی ہر ذرہ میں نمایاں ہونے اور ظاہر ہونے کی خصوصیت بھی ہے۔ چھٹی خصوصیت اخفاء ہے۔ یعنی کسی چیز کو مخفی کر دینا۔ مثلاً میرے ہاتھ کے پیچھے کوئی چیز ہو تو وہ اسے چھپا دیگا۔ اس کے مقابلہ میں خفاء یا چھپنے کی طاقت ہے یعنی اپنے وجود کو مخفی کر دینا اور دوسرے کے سایہ میں آجاتا۔ یہ طاقتیں جو مادہ کے باریک سے باریک حصہ میں پائی جاتی ہیں اخلاق کی بنیاد ہیں۔ تمام اخلاق کی بنیاد انہی پر ہے۔ اور یہی ترقی کرتے کرتے انسان میں ایک حیرت انگیز صورت میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ جوں جوں مادہ مرکب ہوتا جاتا ہے اجزاء ملتے جاتے ہیں اس کے افعال میں زیادتی اور صفائی پیدا ہوتی جاتی ہے۔ جوں جوں مادہ ترقی کرتا ہے یہ خاصیتیں اعلیٰ پیرایہ میں اور مختلف اقسام سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اور جس قدر اونی ہوتا جاتا ہے ان خصوصیات کا ظہور اوٹی اور محدود ہوتا جاتا ہے جب تک خالص مادی قوانین کے ماتحت یہ خاصیتیں عمل کرتی ہیں اُس وقت تک ہم ان کے ظہوروں کو