انوارالعلوم (جلد 9) — Page 177
انوار العلوم جلد 8 ۱۷۷ منهاج الطالبين ضرورت ہو گی وہاں فرق بیان کردوں گا۔ اخلاق کے مسئلہ پر غور کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ خُلق کیا چیز ہے۔ اس کے متعلق اسلام کے سوا سب مذہبوں نے اور فلسفیوں نے لغزشیں کھائی ہیں اور اس کی عجیب عجیب تعریفیں کی ہیں۔ مثلاً (1) بعض کے نزدیک خُلق اس گہری جڑ رکھنے والے ملکہ کا نام ہے جس سے انسانی اعمال بلا فکر و رویہ آپ ہی آپ سرزد ہوتے ہیں۔ یا جس کے ماتحت انسان بلا فکر و رویہ کسی فعل کے کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ (۲) بعض کے نزدیک خلق وہ نیک مادہ ہے کہ جو انسان کے اندر خدا کی ذات پر دلالت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ (۳) بعض کے نزدیک معلق وہ مادہ ہے جو لمبے تجربہ کے بعد انسان میں پیدا ہو گیا ہے اور اب ورثہ کے طور پر انسانوں میں آتا ہے۔ یورپ کے فلاسفر اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ میرے نزدیک مخلق اس حالت کا نام ہے جبکہ طبعی تقاضے قوتِ فکر کے ساتھ ملا دیئے جائیں اور ان تقاضوں سے کام لینے والی ہستی مقتدر ہو۔ یعنی چاہے تو ان سے کام لے اور چاہے تو ترک کر دے۔ اگر یہ افعال ایسے وجود سے ظاہر ہوں جس میں قوت فکر نہ ہو تو وہ طبعی تقاضے کہلاتے ہیں جیسے حیوانوں میں ہوتا ہے۔ حیوان محبت اور پیار کرتے ہیں مگر ان کو با اخلاق نہیں کہہ سکتے بلکہ طبعی تقاضے کہتے ہیں۔ پھر اگر اس قسم کے افعال ایسے وجودوں سے ظاہر ہوں جنہیں خاص رنگ میں بنایا گیا ہو جیسے نباتات یا جمادات تو انہیں ظہور قدرت کہیں گے۔ مضمون کا یہ حصہ مشکل ہے۔ اگر بعض دوست اسے نہ سمجھ سکیں تو جب یہ کتاب کی شکل میں چھپ جائے گا اُس وقت سمجھ جائیں گے۔ مگر اس کے بغیر چونکہ مضمون کا اگلا حصہ نہیں چل سکتا اس لئے بیان کرتا ہوں۔ اگلا حصہ آسان ہے وہ سب دوست سمجھ سکیں گے۔ میں اخلاق کی تعریف بیان کر چکا ہوں۔ اخلاق وہ افعال ہیں جو ایسے لوگوں سے صادر ہوں جن میں سوچنے اور فکر کرنے کی طاقت ہو اور کام کرنے یا نہ کرنے کی قابلیت پائی جائے۔ اب میں اخلاق حسنہ کی تعریف بیان کرتا ہوں۔ اخلاق حسنہ کی تعریفیں بھی مختلف لوگوں نے مختلف کی ہیں۔ (۱) چنانچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اخلاق حسنہ انسانی طاقتوں کے عقل کے ماتحت استعمال کرنے کا نام ہے۔ (۲) بعض کے نزدیک اخلاق حسنہ وہ افعال ہیں جو انسان کو حقیقی خوشی پہنچاتے ہیں۔ (۳) بعض کے نزدیک اخلاق حسنہ وہ افعال ہیں جن میں ایثار سے کام لیا گیا ہو یعنی اپنا نقصان