انوارالعلوم (جلد 9) — Page 160
انوار العلوم جلد 9 ۱۶۰ منهاج الطالبين کہ میں اپنا وقت ضروری کاموں میں لگا سکوں۔ اس طریق کی بجائے اگر کوئی صاحب میرا زیادہ وقت لئے بغیر دعا کے لئے کہیں تو مجھے اُن کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو کیونکہ میں سمجھوں کہ ان کو میرے وقت کی قدر ہے۔ لیکن جو لوگ دیر تک ہاتھ پکڑے رکھتے ہیں اُن کے سامنے میں بظاہر تو بشاشت قائم رکھتا ہوں لیکن میرا دل تلملا رہا ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے میرے فلاں کام میں حرج ہو رہا ہے۔ اس طریق سے ملاقات کرنے والوں کو میں روکنا چاہتا ہوں لیکن اگر کسی کو ضروری کام ہو تو اس سے میں دن رات میں ہر وقت ملنے کے لئے تیار ہوں۔ میں ملاقات کو نہایت ضروری سمجھتا ہوں اور جس طرح میں انکو غلطی پر سمجھتا ہوں جو بلا ضرورت اور بلاوجہ میرا وقت صرف کرتے ہیں اسی طرح میں اُن کو بھی غلطی پر سمجھتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ ملنا ہی نہیں چاہئے۔ جب بھی موقع ملے یہاں ضرور آنا چاہئے اور مجھ سے ملنا چاہئے۔ ہاں اگر کوئی ایسی بات کرنی ہو جو مجلس میں نہ کی جا سکتی ہو۔ مثلاً کوئی ایسی بیماری ہو یا اپنے خاص حالات ہوں یا کوئی اور ایسی ہی بات ہو تو اس کے لئے میں علیحدہ ملنے کے واسطے بھی تیار ہوں اب تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کئی دوست بعض سوالات لکھ کر لاتے ہیں اور انکے متعلق علیحدہ پوچھتے ہیں۔ اُس وقت مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ اگر یہی سوال مجلس عام میں پوچھتے تو اوروں کو بھی فائدہ ہوتا۔ مثلا یہی سوال کہ نماز میں توجہ کیونکر قائم رہ سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب اور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ مگر پوچھنے والے صاحب علیحدہ وقت لے کر پوچھتے ہیں اور عام لوگوں کو اس کے فائدہ سے محروم رکھتے ہیں۔ اس قسم کی علیحدہ ملاقات کرنے والوں کو روکنا چاہتا ہوں ورنہ ملاقات کا حکم تو قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ کے جو لوگ اللہ تعالی سے سچا تعلق رکھتے ہیں ان سے ملتے رہا کرو۔ پس ملاقات ضروری ہے اور اس قدر ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جو لوگ ہمارے پاس نہیں آتے اُن کے ایمان کا خطرہ ہے۔ ہے بعض لوگ ایسے ہیں جو یہاں آتے تو ہیں لیکن مجلس میں دوسروں کے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں میں اُن کو دیکھ رہا ہوتا ہوں لیکن ہمارے خاندان کے لوگوں کی آنکھیں اس قسم کی ہیں کہ اُوپر کو زیادہ نہیں کھل سکتیں۔ ان کے اوپر گوشت زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے نیچے جھکی رہتی ہیں اور اگر زیادہ کھولیں تو درد ہونے لگتا ہے۔ پس جو دوست یہاں آئیں اُنہیں میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مجھے ملیں اور انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ وہ کب تک رہیں گے اور اپنے اور اپنی جگہ کے حالات سے اطلاع دینی چاہئے اس طرح اُن کی طرف خاص توجہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور اُن کے