انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 142

انوار العلوم جلد 9 ۱۴۲ جماعت احمد یہ کا جدید نگام حمل اب میں احمد یہ جماعت کے کارکنوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج کل مالی مشکلات بہت ہیں اس سال آمد کی نسبت بجٹ ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ آمد ڈیڑھ لاکھ ہے اور بجٹ اڑھائی لاکھ۔ اس کے علاوہ ۳۰ ہزار کے صیغہ جات مقروض ہیں۔ ایسی حالت میں اگر یہ بجٹ جو تیار کیا گیا ہے جاری کیا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ ساڑھے نو مہینے کے بعد نہ کسی صیغہ کو تنخواہ دی جاسکے گی نہ سائر، نہ کوئی رسالہ جاری رہ سکے گا نہ کوئی اخبار۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں یہ بجٹ جاری نہیں کیا جا سکتا اس لئے میں نے دو کمیٹیاں بنائی ہیں۔ ایک آمد بڑھانے کی تجاویز پر غور کرنے والی اور دوسری خرچ گھٹانے والی۔ خرچ گھٹانے کے لئے جب تک سب لوگ قربانی نہ کریں کم نہیں ہو سکتا اس لئے سب کے تعاون کی ضرورت ہے اگر خدا نخواستہ سال کے بعد دیوالیہ نکل جائے تو یہ بہتر ہے کہ اسی وقت بعض کام بند کر دیئے جائیں یا بعض اخراجات میں تخفیف کر دی جائے۔ میں نے دیکھا ہے ہر چار سال کے بعد مالی تنگی کا دورہ آتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول کے آخری ایام میں خزانہ بالکل خالی تھا۔ علاوہ ازیں اٹھارہ ہزار کے قریب قرضہ بھی تھا۔ پھر ے 191 ء میں ایسی حالت ہوئی۔ پھر ۱۹۲۱ء میں اور پھر اب ۱۹۲۵ء میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چار سال کے بعد ایسا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ جماعت میں تجربہ کار مالی معاملات سے واقف نہیں ہیں اس لئے نقص پیدا ہو- پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر صیغہ مال سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار ہوتے تو معلوم کر لیتے کہ اس دورہ کی کیا وجہ ہے اور اس سے پتہ لگایا جا سکتا تھا کہ کوئی انتظامی نقص ہے جس کی طرف اگر توجہ کی جاتی تو آج پھر یہ خرابی پیدا نہ ہوتی۔ مگر میں نے دیکھا ہے جب آمد زیادہ ہوتی ہے کارکن کہتے ہیں بجٹ بڑھا دیا جائے۔ پچھلے سال میں نے کہا بجٹ کم کرو مگر کہنے لگے کسی صورت میں کمی نہیں ہو سکتی۔ اور اب جب آمد میں کمی ہو گئی ستر ہزار تک کم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر گذشتہ سال ہی بجٹ کم کر دیتے اب ایسا نہ ہوتا۔ میرے نزدیک سلسلہ کی تاریخ میں ایسا تاریک سال کبھی نہیں آیا جیسا یہ سال ہے۔ پہلے ایسے موقع پر کہ کوئی چندہ خاص نہیں لیا جاتا تھا مالی تنگی پیش آتی جو چندہ خاص کے ذریعہ دور ہو سکتی تھی لیکن اب ہم دو دفعہ چندہ خاص لے چکے ہیں۔ ایسی صورت میں جب تک سب لوگ تعاون نہ کریں کام نہیں چل سکتا۔ اس کے لئے ممکن ہے بعض عہدے اُڑائے جائیں، بعض افراد تخفیف میں لائے جائیں، بعض دفاتر بند کئے جائیں جس سے بے چینی پیدا ہو گی۔ اس کا دُور کرنا ہر ایک کا فرض ہے۔ اسی طرح ذاتی قربانی کی ضرورت ہے۔ اگر تنخواہوں میں کمی کی جائے تو اُسے برداشت کیا جائے۔ اس کے لئے میں نے یہ اصول رکھے ہیں۔ (1) اس وقت تک کوئی نیا کام نہ بڑھایا جائے جب تک ریز رو فنڈ نہ ہو اور آمد