انوارالعلوم (جلد 9) — Page 122
انوار العلوم جلد 9 ۱۲۲ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر عند الضرورت اپنے گھروں میں بیٹھ کر بھی اپنی معیشت کا سامان پیدا کر سکیں اور عند الفراغت غرباء کی مدد کر سکیں۔ اور نرسنگ کی تعلیم ہونی چاہئے تاکہ وہ وقت ضرورت اپنے ملک اور اپنے خاندان کی خدمت کر سکیں۔ ہاں ان کے ساتھ زبانوں اور حساب وغیرہ کی بھی تعلیم ہو۔ کیونکہ یہ علوم تمدن کے قیام اور عقل کی تیزی کے لئے ضروری ہیں۔ مسلمان بچے او مگر میرے نزدیک سب سے ضروری چیز اس وقت بچے اور تمدن یورپ ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یورپ کے تمدن سے آزاد کرائیں۔ تمدنی غلامی سیاسی غلامی سے بہت بڑھ کر ہے۔ سیاسی غلامی میں انسان کا دل آزاد ہوتا ہے لیکن تمدنی غلامی میں اس کا دل بھی غلام ہو جاتا ہے جو بہت زیادہ خطر ناک بات ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان اپنے ظاہر اور اپنے باطن میں مغربی تمدن کے دلدادہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں جن کا خیال رکھنے میں کوئی بھی قربانی نہیں کرنی پڑتی اسلامی شعار اور آبائی تمدن چھوڑ کر مغربی تمدن اور مغربی عادات اختیار کرتے جا رہے ہیں اور جو قوم ارتقاء کے طور پر نہیں بلکہ نقل کے طور پر دوسری قوم کی عادات کو اختیار کرتی ہے وہ خواہ سیاستا آزاد بھی ہو جائے حقیقی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہوتی اور اعلیٰ مدارج ترقی پر کبھی بھی نہیں پہنچتی۔ تجارت کے متعلق مشورہ تجارت کے متعلق میں یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اس امر سے مسلمانوں نے سب دوسرے امور کی نسبت زیادہ تغافل برتا ہے۔ تجارت بالکل مسلمانوں کے قبضہ میں نہیں ہے اس کا ہر ایک شعبہ ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور اس کی وجہ سے مسلمان اقتصادی طور پر ہندوؤں کے غلام ہیں۔ اور ان کی گردنیں ایسی بڑی طرح ان کی پھندے میں ہیں کہ وہ بغیر ایک جان توڑ جد وجہد کے اس سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ آڑھت، صرافی، تجارت در آمد و بر آمد ایجنسی، انشورنس، بنگنگ، ہر ایک شعبہ جو تجارت کے علم سے تعلق رکھتا ہے اس میں وہ نہ صرف پیچھے ہیں بلکہ اس کے مبادی سے بھی واقف نہیں اور اس کے دروازے تک بھی نہیں پہنچے۔ صرف چند چیزیں خرید کر دکان میں بیٹھ جانے کا نام وہ تجارت سمجھتے ہیں اور ان چیزوں کے بیچنے اور خریدنے کا بھی ڈھنگ ان کو نہیں آتا۔ وہ اس کوچہ سے نابلد ہونے کے سبب اس دیانت تجارت اور خلق تاجرانہ سے جس کے بغیر تجارت با وجود علم کے بھی نہیں چل سکتی ناواقف ہیں۔ پس ضروری ہے کہ ایک کمیشن کے ذریعہ تجارت کی تمام اقسام کی ایک لسٹ بنائی جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کس قسم کی تجارت میں مسلمان کمزور