انوارالعلوم (جلد 9) — Page 119
انوار العلوم جلد 9 ۱۱۹ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر میں گرا دیتے ہیں۔ حالانکہ اعزاز اور اکرام اور شے ہے اتباع اور۔ وہ ان کی اتباع نہ کریں مگر اختلاف رائے سے جو دیانتداری پر مبنی ہو ان کی پچھلی خدمات پر پانی کیونکر پھر جاتا ہے۔ سیاست سودا ہے دوسرا نقص یہ ہے کہ ہم لوگ اس امر کو نہیں جانتے کہ سودا کیا ھے ہے۔ تمام سیاست سودے پر چل رہی ہے اور جب تک یہ سودا ہم نہ سیکھیں گے اس وقت تک نہ گورنمنٹ کے ساتھ معاملہ میں کامیاب ہوں گے نہ دوسری اقوام ہے۔ ہمیں کبھی یہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ جو کچھ کہتے ہیں بس اس سے ایک قدم نہیں ہیں گے۔ بے شک ہم حسن تدبیر سے یہ کوشش کریں کہ دلیل سے، حکمت سے دوسرے کو اپنے مطلب کی طرف کھینچ لاویں بلکہ اپنے مطالبہ سے بھی زیادہ حق لے لیں لیکن عدم تسامح کی کارروائی پر ہمیں کبھی عمل نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں دنیا کے ۔ دنیا کے سامنے کبھی اپنے مطالبات اس صورت میں نہیں رکھنے چاہئیں کہ ان کو مانتے ہو تو مانو ورنہ لوہم جاتے ہیں بلکہ ہمیشہ اس پر آمادہ رہنا چاہئے اور اس آمادگی کو ظاہر کرنا چاہئے کہ دوسرے کی مشکلات اور اس کے راستہ کی روکوں کو بھی ہم غور سے سنیں گے اور ان کا لحاظ کریں گے۔ اور علیحدہ حق نیابت مور میں ان کا وار کو ان کار لانے کے لئے یہ ضروری ہے کی وزن یه کہ ان کے مطالبات کو اس طرح پیش کیا جایا کرے کہ وہ صرف معقول ہی نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی معقول نظر آئیں۔ میں مثال کے طور پر ایک امر کو لیتا ہوں اور وہ علیحدہ حق نیابت ہے۔ یورپ کے لوگ علیحدہ حق نیابت کو ملک کے حق میں سخت مغر خیال کرتے ہیں اور یہ بات بھی درست ہے۔ مگر مسلمانوں کی کمزوری ہندوؤں کا گل شعبوں پر قبضہ اور مسلمانوں کی ترقی کے راستے بند کر دینا یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ جب تک اس حالت کی اصلاح نہ ہو جائے جدا گانہ حق نیابت کا مطالبہ کریں بلکہ ملازمتوں میں بھی اپنا نسبتی حق مانگیں۔ اب یورپ کے نزدیک جداگانہ حق نیابتی کو خود کشی ہے لیکن ملازمتوں میں حق نسبتی کا مطالبہ پورا اور کی ورا اور کھلا ہوا جنون ہے۔ اتفاق ایسا ہے کہ ہندوؤں کا بوجہ کثیر التعداد ہونے کے اس اصل کے رائج کرنے میں فائدہ ہے۔ پس وہ اپنے فائدہ کی غرض سے اس کی تائید کرتے ہیں اور اہل یورپ سمجھتے ہیں کہ وہ دانا ہیں اور مسلمان پاگل اور ملک کے دشمن۔ مجھ سے لندن کے سب سے بڑے روزانہ اخباروں کے ایڈیٹروں میں سے ایک نے جو مسلمانوں کی تائید میں تھا حیرت سے ذکر کیا کہ یہ پاگلانہ مطالبہ مسلمان کس طرح کرتے ہیں۔ لارڈ منٹو کے