انوارالعلوم (جلد 9) — Page 117
انوار العلوم جلد 9 114 آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر کروڑوں ہندو اور مسلمان ہیں جو روزانہ آپس میں مل رہے ہیں نہ کہ بعض لیڈر۔ لیڈر بعض دفعہ اشتعال کا موجب ہو جاتے ہیں مگر آتشی مادہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے قلوب میں موجود ہے۔ پس لیڈروں کی صلح سے ہرگز امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان نہ گاندھیوں، دیش بند ھوؤں، نہروؤں اور نہ برجیوں سے آباد ہے نہ علی بر اور ز اور ابو الکلاموں سے۔ پس نہ ان لوگوں کے سمجھوتے کا اثر عوام پر پڑ سکتا ہے نہ ان کے قلوب کا انعکاس لوگوں کے قلوب پر اور اگر ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں لاکھوں کروڑوں ہندو مسلمانوں کے حقوق تلف کرتے ہوئے اور مسلمان ہندوؤں کے حقوق تلف کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو امن کو کون قائم رکھ سکے گا۔ پس امن تب ہو سکتا ہے جبکہ اس حالت نفاق کو تسلیم کرایا جائے اور بجائے آنکھیں بند کر کے صلح کا اعلان کرنے کے جو چند ماہ سے زیادہ نہ ٹھرے گا اور وہ بھی ظاہر میں کیونکہ عملاً ایک دوسرے کی گردن برابر کائی جاتی رہے گی۔ چاہئے کہ عارضی طور پر ایسے قوانین بنائے جاویں جن سے قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق محفوظ ہو جاویں۔ اور ہند و صاحبان اس امر کو تسلیم کر لیں کہ مسلمانوں اور دیگر قلیل التعداد جماعتوں کو ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق نیابتی حقوق بھی ملیں اور سرکاری خدمات کا حصہ بھی۔ اور نہ صرف اس معاہدہ پر عمل ہو بلکہ اس کو کانسٹی ٹیوشن میں داخل کیا جائے تا سیر التعداد جماعت اپنی کثرت رائے سے اس کو کسی وقت بھی قلیل التعداد جماعتوں کی مرضی کے خلاف بدل نہ سکے۔ سے خورد و نوش ہندوؤں طرح چونکہ ہندو لوگ مسلمانوں کی چھوت چھات کے سامان نہیں دیا ہے اور ہرسال کم سے کم میں کروں روپیہ ہندوؤں کی جیبوں میں مسلمانوں کی طرف سے ایسا جاتا ہے جس کا واپس آنا نا ممکن ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی تمدنی ضروریات کے لئے اور اپنی قومی زندگی کی حفاظت سے اس وقت تک کہ ہندو مسلمانوں کا یہ مقاطعہ چھوڑ دیں ہندوؤں سے خورد و نوش کی چیزیں ہرگز نہیں خریدنی چاہئیں اور چھوت کے اس پہلو کو نہایت مضبوطی سے پکڑ لینا چاہئے اور ہندوؤں کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس طریق کے بغیر مسلمانوں کی مالی حالت کبھی درست نہیں ہو سکتی اور وہ کبھی تمدنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ آٹھواں سیاست ہند کے سیاست ہند کے متعلق مسلمانوں کا رویہ متعلق مسلمانوں کا رویہ ہے کہ اس کے متعلق مجھے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ کوئی عقلمند: ایک منٹ کے لئے بھی خیال کرے گا