انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 115

انوار العلوم جلد 3 ہوگی۔ ۱۱۵ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر اوقاف کے متعلق بھی یہی خیال رہنا چاہئے اور یہی قاعدہ ہونا چاہیئے کہ جس غرض کے لئے کوئی وقف ہے اور جس قوم کا وقف ہے۔ اس کا انتظام اس کے ذریعہ سے ہو نہ کہ دوسری قومیں ہلا وجہ اس میں دخل دینے کی کوشش کریں۔ قیام مکاتب نہایت ضروری ہے۔ بغیر تعلیم کے نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ اور میرے نزدیک تو اگر روپیہ مہیا ہو سکے تو ابتدائی تعلیم ہر مسلمان کے لئے ممکن الحصول بنا دینی چاہئے بلکہ ہر مسلمان کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں تعلیم دلوائے۔ ہندو ت و تعلقات ساتواں امر ایجنڈے میں ہندو مسلم مناقشات و مسلم مناقشات و تعلقات کا ہے۔ اور در حقیقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کا نفرنس کی ضرورت ہی اس سوال کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات درست ہوتے تو اس رنگ میں تنظیم اور سنگھٹن کا خیال بھی شاید پیدا نہ ہوتا۔ میری رائے میں ملک کی سخت بد قسمتی ہو گی اگر ہم اس سوال کو حل نہ کر سکیں اگر مسلمان اور ہندو آپس میں محبت سے نہیں رہ سکتے تو وہ ہر گز سیلٹ گورنمنٹ کے مستحق نہیں۔ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان آج بھی پوری طرح سیلف گورنمنٹ کے حصول کے قابل ہے بشرطیکہ قومی مناقشات دور ہو جائیں۔ اور سو سال تک بھی سیلف گورنمنٹ کے قابل نہ ہو گا اگر قومی مناقشات دور نہ ہوں خواہ انفرادی طور پر ہندوستان کے باشندے یورپ کے لوگوں سے کتنے ہی زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب کیوں نہ ہو؟ انہ ہو جائیں۔ میرے نزدیک ہمیں اپنی قومی زندگی کے تحفظ کے سامان کرنے کے لئے ہر طرح ہندو مسلم اتحاد کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور ایثار اور قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے بشرطیکہ وہ قربانی ہماری قومی زندگی کو کمزور کرنے والی نہ ہو۔ ہندو مسلم مناقشات کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں تمام اختلاف کی بیاد رو امر ہیں۔ (1) اختلاف کے باوجود اتحاد کرنے کی حقیقت نہ سمجھنا اور جو طبعی اختلافات ہیں ان کو بالحجر مٹانے کی کوشش کرنا۔ (۲) اس امر سے آنکھیں بند رکھنا کہ ہندو مسلمانوں میں حقیقتاً سیاسی اختلاف بھی موجود ہے اور اس اختلاف کی موجودگی میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے قواعد بن جاویں جن پر چل کر ہر اک قوم دوسرے کے حملہ