انوارالعلوم (جلد 9) — Page 106
انوار العلوم جلد 9 トリ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر ہے کہ کا اس اس کو اگر وہ غلطی پر ہے سمجھائے۔ - دوسری تعریف سیاسی ہے اور یہ تعریف کوئی فرقہ خود نہیں کر سکتا بلکہ یہ تعریف اسلام کا لفظا و معنا انکار کرنے والے لوگ کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ سیاسی طور پر کون لوگ مسلمان ہیں؟ اس کا جواب نہ دیو بند دے سکتا ہے نہ قادیان نہ فرنگی محل نہ گولڑہ اور نہ علی پور۔ اس کا جواب صرف ہندو اور عیسائی اور سکھ دے سکتے ہیں جن سے مسلمانوں کا سیاسی واسطہ پڑتا ہے۔ اگر ایک جماعت کو دیگر مذاہب کے پیرو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں تو ایک لاکھ مولویوں کے فتوے بھی اس کو سیاست اسلامیہ سے باہر نہیں نکال سکتے۔ سنی خواہ شیعوں کو اور شیعہ خواہ سنیوں کو کافر کہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں ہندو اور سکھ سنیوں اور شیعوں سے کیا معاملہ کریں گے کیا سنیوں کے شیعوں کو کافر کہنے کے سبب سے ہندو لوگ سنیوں اور شیعوں سے الگ الگ قسم کا معاملہ کریں گے؟ نہیں، وہ جو کارروائی ایک قوم کے خلاف کریں گے وہی دوسری کے خلاف بھی کریں گے۔ پس سیاست ان کے مفاد ایک ہیں جن پر اسلام کا لفظ حاوی ہے اور اگر وہ اس نکتہ کو نہیں سمجھیں گے تو ان کو ایک ایک کر کے دوسری قومیں کھا جاویں گی اور ان کو اس وقت ہوش آوے گی جب ہوش آنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ سیاسی امور میں ضرورت اتحاد اس اصل کے بیان کرنے کے بعد میں تمام ان فرقوں کے لوگوں سے جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں کہتا ہوں کہ عقید تا وہ خواہ ہمیں کافر کہیں اور خواہ ہم ان کو کافر کہیں۔ اسلام کے نام نے ہمارے سیاسی فوائد کو اس طرح ملا دیا ہے کہ ہم سیاستا ایک دوسرے کو مسلمان قرار دینے پر مجبور ہیں اور اگر کوئی ایک فرقہ مذہبی عقیدہ کی بناء پر سیاسی جدوجہد میں بھی الگ کر دیا گیا تو یاد رکھو کہ اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ وہ اپنی زندگی کے قیام کے لئے دوسری اقوام سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو گا اور اس صورت میں اسے ان فرقوں کے ۔ کے مقابلہ میں جنہوں نے اسے سیاستا - سے سیاست کچلنے کی بلکہ مارنے کی کوشش کی تھی ضرور اس جماعت کی رعایت کرنی ہو گی جو اس سے معاہدہ ہو کر اس کی حفاظت کا وعدہ کرے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سیاسی میدان میں کوئی قوم بغیر طاقتور ہمسایوں سے معاہدہ کئے زندہ رہ سکے۔ اور یہ آپ لوگ ہرگز امید نہیں کر سکتے کہ ایک جماعت کو آپ لوگ دھتکار کر نکال دیں اور پھر یہ بھی امید کریں کہ وہ دوسری قوموں کی طرف بھی رجوع نہ کرے اور تظلم کی داد دیتے ہوئے اپنے سیاسی وجود کو فنا کر دے اس قسم کی وفا کی مثالیں افراد میں مل سکتی ہیں اور وہ بھی شعراء کے کلام میں۔ قومیں اس قسم کی وفا کا نمونہ دکھا کر زندہ نہیں رہ سکتیں دست ا