انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 99

انوار العلوم جلد 9 ۹۹ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت غیر احمدیوں کے معارف کا نمونہ ہاں اس قسم کے معارف نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں اور نہ میں بیان کر سکتا ہوں جس قسم کے یہ بیان کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے حضرت نبی کریم کے معجزات بیان کرتے ہوئے کہا کہ معراج کے لئے جب آپ کے پاس گھوڑا لایا گیا تو اس نے شوخی کی جس میں بڑی بڑی حکمتیں تھیں۔ مثلاً ایک تو یہ کہ شاہسوار شوخ گھوڑے کو بہت پسند کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ گھوڑا ڈر گیا کہ معلوم نہیں میں نبوت کا بوجھ اٹھا سکتا ہوں یا نہیں۔ پھر ایک نکتہ انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت اللہ جس وقت گھوڑے پر سوار ہوتے تھے تو اس کا پیشاب پاخانہ بند ہو جاتا تھا۔ انبیاء کے معجزات اور برکات میں اگر یہ بات بھی داخل ہے کہ جس گھوڑے پر نبی سوار ہو اس کا پیشاب پاخانہ بند ہو جائے تو تمام گھوڑے نبی کی بعثت کا حال سن کر یہی دعا کرتے ہوں گے کہ خدایا ! اس نبی کا گذر اس طرف نہ ہو ورنہ ہم میں سے کسی کی شامت آجائے گی۔ اسی طرح یہ کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ال کا پاخانہ زمین نگل لیتی تھی۔ بھلا کوئی پوچھے اس قسم کی باتوں کو کون دیکھنے والا تھا۔ اسی طرح ایک شخص نے شاید سید عبد القادر جیلانی کا یہ معجزہ بیان کیا تھا کہ ان کے سامنے بھنا ہوا مرغ لایا گیا۔ کھانے کے بعد اس کی ہڈیاں جمع کر کے انہوں نے زندہ کر دیا اور وہ کڑ کڑاتا ہوا اُڑ گیا۔ ہندوؤں کے قصے اگر مولوی صاحبان اس قسم کے معجزات اور نشانات کا نشانات کا ہم سے مطالبہ کرتے ہیں اور اس قسم کے معارف اور حقائق ہم سے سننا چاہتے ہیں تو ان کے لئے قرآن و حدیث کی کوئی ضرورت نہیں اس قسم کے معجزات کی بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر جن کا ان مولوی صاحبان کو شاید کبھی وہم بھی پیدا نہ ہوا ہو ہندوؤں کی کتابوں میں اسقدر بھرمار ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت ہی نہیں۔ مثلاً ہندو کہتے ہیں ان کا ایک رشی تھا جس کی کسی عورت پر نظر پڑ گئی اور اسے انزال ہو گیا۔ اس نے وہ کپڑا ایک گڑھے میں ڈال دیا۔ تھاجس کی کسی نظر پڑگئی ہو تھوڑی دیر کے بعد گڑھے میں سے رونے کی آواز آنے لگ گئی۔ دیکھا تو بیچ میں بچہ رو رہا تھا۔ اس قسم کے قصے نسلا بعد نسل ہندوؤں کو بنانے کی اتنی مشق ہے کہ مسلمان اگر ان سے مقابلہ کریں تو ان کو پیٹھ دکھانے کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔ پھر وہ کہتے ہیں۔ ایک دفعہ نیل کنٹھ کو جو چھوٹا سا پرندہ ہے بھوک لگی تو وہ اپنی ماں کے پاس