انوارالعلوم (جلد 9) — Page 91
انوار العلوم جلد 9 ۹۱ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمد یہ کو نصیحت اللہ اللہ کے سچے عاشق اور آپ کی دین کے ایک بچے خادم سے ان کی صلح نہیں ہو سکتی۔ الْكُفْرُ مِلَّةَ وَاحِدَةً پہلے تو مجھے یہ خیال آیا کہ ایک اسلام کے مدعی اور محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دم بھرنے والے کے منہ سے ایسا کلمہ کس طرح نکل سکتا ہے اور میں اپنے دل میں اس کے تسلیم کرنے کے لئے آمادگی نہیں پاتا تھا مگر مجھے ساتھ ہی اپنے اسی پیارے کا یہ فقرہ یاد آگیا کہ الْكُفْرُ مِلَّةً وَاحِدَةً " جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ مولوی جلال الدین صاحب کو کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ مولوی مرتضی حسن صاحب نے ضرور ایسا کلمہ کہا ہو گا جب انہوں نے یہ کہا کہ احمدیوں سے جو کہ رسول کریم ﷺ کی جان و دل سے عزت کرنے والے، آپ سے محبت رکھنے والے اور آپ کی دین کی اشاعت میں جان اور مال قربان رنے والے ہیں ان کی صلح نہیں ہو سکتی۔ لیکن آریوں، عیسائیوں اور یہودیوں سے ہو سکتی ہے جو رسول اللہ کے دشمن اور آپ کے دین کو شب و روز مٹانے کے لئے کوشاں ہیں تو یہ رسول کریم کے قول کی تصدیق کی ہے۔ کیونکہ رسول کریم نے بھی یہی بات فرمائی ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں سب کفر جمع ہو جاتے ہیں۔ مولوی مرتضی حسن صاحب کے اس قول نے بتا دیا کہ کافر کون ہے اور مؤمن کون۔ آریہ ، عیسائی، یہودی سب کافر ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے مخالفین کا جمع ہونا بتلاتا ہے کہ وہ ان سارے کفروں میں غرق ہو رہے ہیں اور سارے احمدیت کے مقابلہ میں ملے وَاحِدَةُ بن رہے ہیں۔ یہ ہے ان مولویوں کا اسلام جس پر انہیں فخر ہے۔ کیا غیر احمدی مولوی بنی آدم نہیں دوسری بات جو مولوی جلال الدین صاحب کے لیکچر سے مجھے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری طرف سے جو یہ آیت پیش کی جاتی ہے۔ يُبَنِی آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ - غير احمدی مولوی صاحب نے کہا ہے کہ اس آیت میں ہم لوگ مراد نہیں بلکہ بنی آدم مراد ہیں۔ شاید ہوں۔ وہ اپنے آپ کو بنی آدم شمار نہ کرتے ہوں مگر میں تو اپنے آپ کو بنی آدم میں سے ہی شمار کرتا ہے بے شک پہلے لوگ بھی بنی آدم تھے مگر ہم بھی آدم ہی کی اولاد ہیں اس لئے بنی آدم ہونے کی حیثیت سے ہم اس آیت سے باہر نہیں اور ہم میں بھی نبی آسکتے ہیں۔ ہاں اگر وہ یہودیوں کے نقش قدم پر چل کر بنی آدم نہیں رہے بلکہ ان کی طرح قِرَدَةَ اور خنازیر بن گئے ہیں تو پھر واقعہ میں ان میں کوئی نبی نہیں آسکتا اور اسی وجہ سے وہ اب تک نبی کی شناخت سے محروم ہیں اور حضرت مسیح موعود کے قبول کرنے کی انہیں توفیق نہیں ملتی۔