انوارالعلوم (جلد 9) — Page 78
انوار العلوم جلد 9 ۷۸ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز (۲) اگر وہ حجاز پر قابض بھی ہو جاویں تو آئندہ کے لئے اس امید کو بالکل قطع کر دینا ہو گا کہ عرب کبھی ایک حکومت بن کر اپنی آپ حفاظت کر سکے کیونکہ اس صورت میں دوسرے عرب صوبے نجد و حجاز سے متحد ہونا تو الگ رہا اس کے ساتھ امن سے رہنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ اور چونکہ گواس وقت وہ کمزور ہیں مگر اصل میں ان کی متحدہ طاقت زیادہ ہے اس لئے ہمیشہ عرب میں فساد کا دروازہ کھلا رہے گا۔ دوسری مشکل یہ پیش آتی ہے کہ عرب کی آئندہ ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ شامی جو زیادہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہیں اس کے انتظامی صیغہ میں زیادہ حصہ دار ہوں کیون؟ دار ہوں کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے کہ اس میں خالی تلوار کام نہیں دیتی بلکہ علم اور علم کی ترقی کا دیتی ہے۔ وہابیوں کی حکومت میں یہ بات نا ممکن ہے۔ تیسری یہ مشکل ہے کہ عرب پر مشرقی علاقہ سے حکومت کرنا بالکل ناممکن ہے۔ جب سے عرب کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے ہمیشہ اس پر حکومت مغربی یا شمال مغربی یا جنوب مغربی علاقہ سے ہوتی رہی ہے اور یہ بات اتفاقی نہیں بلکہ اس کی طبعی وجوہ ہیں۔ پس اگر وہابی حکومت ریاض میں رہی تو حجاز بالکل کمزور ہو جائے گا اور ممکن ہے دوسری حکومتوں کے قبضہ میں چلا جاوے جو اسلام کے لئے ماتم کا دن ہو گا۔ لیکن اس کا ریاض سے بدل کر مکہ میں یا مدینہ میں لانا وہابی مفاد کے مخالف ہو گا کیونکہ اس طرح امیر اپنے اس ذخیرہ سے دور ہو جاوے گا جہاں سے وہ اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرتا تھا بلکہ اس واحد مرکز سے محروم ہو جاوے گا جس پر وہ اعتماد کر سکتا ہے۔ عرب کس طرح متحد ہو سکتا ہے پس حالات موجودہ میں وہابیوں کا مجاز پر قبضہ کرلینا کو ا ہے عارضی طور پر کچھ مفید ہو دیگر انجام کار عرب اور پھر سارے عالم اسلامی کے لئے مضر ہو گا بلکہ خود وہابی طاقت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ عربوں کے متحد ہونے کا خیال ایک وہم ہو جائے گا اور عرب کبھی بھی ایک منظم حکومت کی شکل میں نہ آسکے گا۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوابِ شریف حسین کے خاندان کی موجودگی میں بھی گو دقتیں ہیں لیکن اگر شریف آئندہ کو اپنی اصلاح کرلیں، ترکوں سے اپنے تعلقات درست کر لیں، وہابیوں پر ظلم چھوڑ دیں بلکہ ان کو کامل مذہبی آزادی دیں ، عالم اسلام کی ہمدردی کو حاصل کریں اور عالم اسلام بھی ان سے جاہلانہ مطالبات نہ کرے تو ان کے ہاتھ پر عرب کا جمعہ ہو جانا نسبتاً بہت آسان ہو گا۔ مگر بهر حال مشکلات دونوں امور میں زیادہ ہیں البتہ میرے نزدیک شریف خاندان کے بر سر اقتدار