انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 76

انوار العلوم جلد 9 ८५ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز ۱۹۱۲ء میں حج کے لئے گیا ہوں اس وقت ترکی حکومت تھی میں بعض وہابیوں سے ملا تھا وہ لوگ کے اثرا سخت تنگ تھے اپنے عقیدہ کا اظہار تک نہیں کر سکتے تھے۔ ایک بڑے عالم نے جو سب مکہ میں عالم مشہور تھا بتایا کہ وہ دراصل وہابی ہے مگر ظاہر اپنے آپ کو حنبلی کرتا ہے کیونکہ دفعہ اسے وہابیت الزام میں قید کر دیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ سب ہوا کہ سب وہابی اپنے آپ کو اس زمانہ میں حنبلی کہتے تھے کیونکہ حنبلیوں کی فقہ اہل حدیث سے قریب ترین ہے اور اس وجہ سے وہ اس نام کے نیچے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہیں۔ وہ لوگ الگ الگ نماز پڑھ لیتے تھے جماعت کرانے کی اجازت نہ تھی۔ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے۔ جماعت کے وقت اِدھر اُدھر ہو جاتے جب لوگ نماز پڑھ لیتے تو وہ اکیلے اکیلے خانہ کعبہ میں نماز پڑھ لیتے یا گھروں پر پڑھ لیتے۔ اگر کسی کی نسبت شبہ ہو جائے کہ وہ وہابی ہے تو اس کی جان کی خیر نہ ہوتی تھی کیونکہ حکومت تو بعد میں دخل دیتی عوام الناس ہی اس کو اپنے قدموں میں روند ڈالتے۔ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ سُنی علماء کی نسبت زیادہ عالم اور زیادہ ہو شیار تھے اور اچھے بارسوخ تھے۔ شریف حسین کے لڑکوں کے اتالیق جو ایک نہایت ہی سمجھدار اور لائق آدمی تھے اور احمدیت کے بہت ہی قریب تھے گو انہوں نے اظہار نہیں کیا مگر میں سمجھتا ہوں وہ بھی وہابی تھے کیونکہ ان کو قریباً سب مسائل میں وہابیوں سے اتفاق تھا۔ خود خود کہتے تھے کہ مکہ میں انسان اپنے عقیدہ کو ظاہر کر کے نہیں رہ سکتا۔ ان صاحب کو میں نے سب مکہ کے علماء میں سے زیادہ سمجھدار اور وسیع الحوصلہ دیکھا۔ مجھے نصیحت کرنے لگے کہ میرے جیسے لوگوں کو آپ احمدیت کی تبلیغ کریں دوسرے علماء کے پاس نہ جاویں ورنہ فساد ہو جاوے گا۔ میں نے کہا اگر حق سنانے میں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کچھ ڈر نہیں ، بہت متأثر ہوئے اور کہا ایمان کی علامت تو یہی ہے۔ غرض ترکی حکومت میں بھی وہابیوں کو مکہ میں آزادی نہ تھی وہابی کا لفظ لفظ وہابی بطور گالی بطور گالی کے مکہ میں استعمال ہوتا تھا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو کہتا کہ دینے سے وہ اس قدر برا نہ مناتا ہو گا جس قدر کہ وہابی کہہ دینے سے۔ جب شریف حسین نے آزادی اختیار کی تو ان کے زمانہ میں بھی سنا ہے کہ یہ ظلم بر قرار رہا بلکہ ابن سعود نے حج کی اجازت اپنی قوم کے لئے طلب بھی کی تو ان کو اجازت نہ دی گئی۔ اور کیا تعجب ہے کہ شریفی خاندان کی موجودہ تباہی اسی فلم کے سبب سے ہو۔