انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xi

میں ۱۲ فروری ۱۹۲۵ء کو بعد از نماز عصر مسجد اقصیٰ قادیان میں ایک لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا ۔ ن سے کام اے بھا بھائیو! میں اس سفر سے پہلے کئی دفعہ ہے دفعہ یہ خیال کرتا تھا کہ جماعت ۔ لیتے وقت اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ لوگ کام سے ملول نہ ہو جائیں اور ان کے ول تھک نہ جاویں لیکن اس سفر میں جو نازک حالت اسلام کی میں نے دیکھی ہے اور جو طاقت اور قوت اور ہوشیاری اس کے دشمنوں میں پائی ہے اس کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ زمانہ ڈرنے کا زمانہ نہیں اور یہ وقت ادھوری کو ششوں کا وقت نہیں جو بزدل ہے اسے واپس جانے دینا چاہئے اور صرف بہادروں کو لیکر جو اسلام کیلئے ہر ایک شے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہیں آگے بڑھنا چاہئے۔" اپنے خطاب کے آخر میں حضور نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے بھائیو! آپ لوگوں نے اس شخص کا زمانہ پایا ہے جس کے زمانہ کی خبر نوح سے لے کر رسول کریم میں تک سب رسولوں نے دی تھی۔ ہاں اس کا زمانہ جو دنیا کیلئے منبجتی ہے اور سارے جہان کو ایک دین پر جمع کرنے کیلئے آیا ہے۔ جس کا زمانہ قیامت کا زمانہ ہے کیونکہ اس میں سب دنیا کو اکٹھا کرنے کیلئے خدا کی قرنا پھونکی گئی ہے۔ وہ آدم ثانی ہے کیونکہ اس کی قدسی تاثیرات سے لب دنیا کو ایک نئی پیدائش حاصل ہونے والی ہے۔ جس طرح پہلے آدم کے ذریعہ سے اس کو جسمانی پیدائش ملی تھی اب اس آدم ثانی کے ذریعہ سے ایک روحانی پیدائش ملے گی۔ دل بدل جائیں گے۔ علوم و عرفان کے دروازے کھول دئے جائیں گے۔ خدا تعالیٰ کے زندہ اور قدیر ہونے کے ثبوت اس طرح مہیا کئے جائیں گے کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ لے گا۔“ اسلام کی اشاعت کے بارہ میں فرماتے ہیں۔ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور اشاعت کا زمانہ سخت مالی قربانیوں کو چاہتا ہے پس نہ صرف یہ کہ آپ کو ہر سال مالی امداد میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لینا چاہئے بلکہ چاہئے کہ آپ لوگ کوشش کریں کہ اپنی آمدنوں کو بڑھا ئیں اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ ہر ایک احمدی کو چاہئے کہ وہ خود بھی کام کرے