انوارالعلوم (جلد 9) — Page 73
انوار العلوم جلد 9 حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز میں اپنے وطن کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ۔ اور پہلے عراق کے شہروں میں تعلیم پاتے رہے ، بعد میں دمشق اور مدینہ منورہ میں تکمیل تعلیم کے لئے چلے گئے ۔ وہاں انہوں نے اس وقت کے مشہور علماء سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اپنے وطن نجد کو واپس آئے ۔ نجد کی مذہبی حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی۔ لوگ دین سے بالکل بے بہرہ تھے ۔ شرک اس قدر عام تھا کہ پتھروں کی پوجا تک شروع ہو گئی تھی انہوں نے وطن پہنچتے ہی توحید کا وعظ کہنا شروع کر دیا۔ اور اپنی زندگی کو بدعات اور سوم کے مٹانے کے لئے وقف کر دیا ۔ جیسا کہ قاعدہ ہے ان کی مخالفت ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے محمد ابن سعود کو جو درا عید کے رئیس تھے۔ ان کی تعلیم کے قبول کرنے کے لئے شرح صدر دے دیا۔ انہوں نے اس طریق کو قبول کرتے ہی اس کی اشاعت پر اس جوش سے زور دینا شروع کیا کہ تھوڑے ہی دنوں میں محمد بن عبد الوہاب کا طریقہ اس علاقہ میں پھیل گیا۔ نئے طریق کے جوش سے بھر پور ہو کر محمد بن سعود نے پاس پاس کے علاقوں پر حملے کرنے شروع کئے۔ اور جبراً لوگوں سے رسوم و بدعات چھڑوانے لگے حتی کہ ان کی وفات سے جو ۱۷۴۲ء میں ہوئی پہلے ہی تمام مشرقی نجد اور رجاء میں محمد بن عبد الوہاب کا طریق پھیل گیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عبد العزیز بن محمد بن سعود نے نجد سے بھی وہابیوں پر حملے پرے تک اس طریق کو رائج کیا حتی کہ ۱۷۹۸ء میں ترکوں کو مجبور ہو کر اس پر چڑھائی کرنی پڑی ۔ مگر اس ترکی فوج کو زک ہوئی اور وہابی طاقت کو اور بھی شہرت حاصل ہو گئی۔ عبدالعزیز کے بیٹے سعود نے عراق کے ایک حصہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ کربلا کو لوٹ کر مقابر کو برباد کیا۔ مکہ مکرمہ کو بھی فتح کر لیا۔ آخر امیر عبد العزیز ایک شیعہ کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اور سعود بن سعود بادشاہ ہوئے ۔ ان کے زمانہ میں مدینہ منورہ بھی فتح ہو گیا۔ چونکہ وہابی فوجوں نے مزار مبارک میں جن قدر قیمتی چیزیں تھیں ان کو لوٹ لیا تھا۔ اور بعض عمارتوں کو تو ڑ دیا تھا۔ (یہ لوگ پختہ قبر کے قائل نہیں) اس وجہ سے سب عالم اسلامی میں جوش پیدا ہو ا مگر چونکہ خود ترکوں میں اس وقت طاقت نہ تھی ، مصر کی بڑھتی ہوئی حکومت کو ان کی سرکوبی مقرر کی گئی۔ اور انہوں نے ترکی حکومت کی ہدایت کے ماتحت دس ہزار فوج سمیت طوسون پاشا جو محمد علی پاشا خدیو مصر کا لڑکا تھا مجاز پر حملہ آور ہوا ۔ اول اول تو مصری فوجوں کو شکست ہوئی مگر آخر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ وہابیوں سے چھین لئے گئے ۔ (محمد بن عبد الوہاب کے پیروؤں کا نام آہستہ آہستہ وہابی پڑ گیا۔ اس لئے میں نے وہی نام لکھا ہے ۔ ورنہ یہ لوگ اس نام کو استعمال نہیں کرتے) مگر اس سے زیادہ