انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 56

انوار العلوم جلد ۸ ۵۶ قول الحق کے لئے ابو جہل پیدا نہ ہو ضرور ہے کہ جو عیسی کے مقام پر کھڑا کیا جائے اس کے لئے فریسی بھی پیدا ہوں اور ضرور ہے کہ جو موسیٰ کے مقام پر کھڑا کیا جائے اس کے لئے فرعون بھی پیدا ہو۔ پھر ضرور ہے کہ جو ابراہیم کے مقام پر کھڑا کیا جائے اس کے لئے نمرود اور شداد بھی ہو کیونکہ خدا کہتا ہے کہ انبیاء کے مخالفوں کے دل مل جاتے ہیں۔ پس تم کیوں گھبراتے ہو۔ بے شک مخالفین کا وجود ثبوت ہے مسیح موعود کے آنے کا تم میں غیرت پیدا ہونی چاہئے اور تم سے بڑھ کر مجھ میں غیرت ہے مگر میں کہتا ہوں۔ گھبراؤ نہیں مایوس نہ ہو کیونکہ ان لوگوں کا وجود ہی بتا رہا ہے کہ مسیح موعود آگیا۔ اس زمانہ میں اگر کوئی بروز ابو جہل موجود ہے تو ماننا پڑے گا کہ محمد اللی کا بھی بروز آگیا کیونکہ خدا کی رحمت کی صفت غضب پر غالب ہے ابو جہل کا بروز غضب ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ غضب ہو اور رحمت کا وجود نہ ہو ۔ اسی طرح اگر تمہیں فریسی اور فقیمی نظر آتے ہیں تو خوش ہو کہ مسیح موعود آگیا۔ اسی طرح اگر فرعون صفت لوگ دیکھو تو جان لو کہ انے مثیل موسیٰ کو مبعوث کر دیا ۔ کیونکہ ” ہر فرعون را موسیٰ ضروری ہے پس ان لوگوں کی شرارتوں سے نہ گھبراؤ کیونکہ خدا کہتا ہے یہ پہلوں کے مثیل ہیں اور ضروری ہے کہ پہلے نبیوں کا مثیل بھی آئے ۔ پس اس بات پر کیوں رنج کرتے ہو کہ یہ لوگ حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا اور مفتری کہتے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب کی نسبت تو یہ جو چاہیں کہیں کیونکہ انہیں سچا نہیں سمجھتے۔ ان مولویوں نے تو ان کو بھی نہیں چھوڑا جن کو یہ سچا مانتے ہیں۔ خدا نے ९९ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ کوئی نبی ایسا نہیں ہر نبی کی عزت ان مولویوں نے برباد کی ہے جس کی عزت ان ۔ ان کے ہاتھوں برباد نہیں ہوئی سوائے حضرت عیسی علیہ السلام کے۔ یہ مولوی جو حضرت صاحب پر تمسخر کرتے رہے کیا وہ یہ نہیں کہتے کہ آدم علیہ السلام کو خدا نے ایک حکم دیا تھا جسے اس نے تو ڑ دیا اور گنہگار بنا۔ یہی مولوی اگر کہیں کہ مرزا صاحب نے گناہ کیا تو کیا بڑی بات ہے حضرت آدم علیہ السلام کو تو یہ لوگ نبی کہتے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کو نبی نہیں کہتے۔ پھر یہ لوگ حضرت نوح کو بھی گنہگار قرار دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں انہوں نے خدا تعالیٰ کی گستاخی کی اور مقابلہ کیا۔ پس اگر یہ لوگ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مان کر یہ کہیں کہ وہ خدا کا گستاخ تھا تو حضرت مسیح موعود کو جھوٹا سمجھتے ہوئے اگر کہیں کہ انہوں نے خدا کے احکام کو توڑا تو یہ کونسی بڑی بات ہے۔ پھر یہ کہتے ہیں