انوارالعلوم (جلد 8) — Page 641
انوار العلوم جلد ۸ ۶۴۱ دورہ یورپ لوگ خواہش رکھتے تھے اس لئے اور ٹکڑے دیئے گئے ۔ لیکن باہر آبادی کا سلسلہ شروع کرنے میں ایک اور روک بھی تھی اور وہ یہ کہ اگر باہر آبادی ہوئی تو چونکہ ہم ہی یہاں کے مالک نہیں ہیں بلکہ اور بھی ہیں اس لئے دو نقص پیدا ہوں گے ایک یہ کہ ہندو جو ابھی تک باہر نہیں نکلے ہمارے مکان دیکھ کر باہر نکلیں گے۔ اس طرح غیروں کی آبادی بھی بڑھ جائے گی۔ اور دوسرا یہ کہ جب کہ آبادی کے قابل اکثر زمین غیروں کے پاس ہے اس وقت ہمارے پاس آبادی کے قابل زمین صرف چھ سات ایکڑ تھی اور لوگوں کو جب باہر آبادی کی خواہش ہو گی تو وہ دوسروں سے قیمتاً زمین خریدیں گے جو مہنگی دیں گے اور اس طرح ہماری جماعت کا نقصان ہو گا کیونکہ وہ جنہیں ہماری آبادی بڑھانے سے تعلق نہیں ان کی یہ خواہش ہو گی کہ زیادہ سے زیادہ روپیہ وصول کریں۔ میرے ان خیالات کی تصدیق اس طرح ہو گئی کہ یہی زمین جہاں یہ محلہ آباد ہے مرزا اکرم بیگ صاحب سے ایک سکھ نے خرید لی اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ اس سے بہت فائدہ ہو گا۔ اسے بہت سمجھایا گیا کہ تم سے ہمارے پرانے تعلقات چلے آتے ہیں اور تم سے کوئی زمین نہیں خریدے گا مگر وہ یہی کہتا تھا مجھے یقین ہے کہ قادیان کی آبادی بڑھے گی اور یقینا مجھ سے یہ زمین خریدی جائے گی۔ اس بناء پر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے زمین خریدی ہے بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے سونا خریدا ہے۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ خواہ کچھ ہو اس زمین کو خرید لیا جاوے۔ چنانچہ جس طرح بھی ہوا کوشش کر کے اور جیسا کہ ایڈریس میں بھی اشارہ کیا گیا ہے ہم نے گھر کے زیورات تک فروخت کر کے یہ زمین خرید لی اور اللہ تعالی کے فضل سے اس کوشش کا یہ نتیجہ ہوا کہ دو محلے آباد ہو گئے ۔ ایک طرف دار الفضل اور دوسری طرف دار الرحمت۔ پھر بقیہ زمین کے متعلق بھی خدا نے روک دور کر دی اور وہ ہمیں دلا دی۔ اب قادیان کی زمین ہمارے پاس ہے یا دیگر احمدیوں کے پاس۔ اس لئے وہ خطرہ نہیں رہا جو پہلے تھا کیونکہ احمدی غیروں کو زمین نہیں دیں گے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں پر جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہیں یقین رکھتے ہیں وہ کبھی ایسی قیمت نہیں رکھیں گے جو ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے میں روک ہو۔ چونکہ اس وقت میری توجہ ایک اور معاملہ کی طرف پھری ہوئی۔ ہوئی ہے جس کا مجھ پر سخت بوجھ ہے اس لئے میں اس ایڈریس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے اس کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ مجھے یہاں آتے ہوئے معلوم ہوا ہے کہ بجائے کم ہونے کے طاعون بڑھ رہی ہے اور احمدی