انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 616

انوار العلوم جلد ۸ 414 دورہ یورپ گزرے وہاں سے یہی آواز آئی کہ ہم آپ کو جانتے ہیں ۔ ہالینڈ میں چودھری ظفر اللہ خان صاحب گئے ایک شخص کو تبلیغ کر رہے تھے۔ سلسلہ گفتگو میں میرا فوٹو نکال کر دکھایا ۔ وہ کہنے لگا یہ تصویر میں نے دیکھی ہوئی ہے۔ برلن سے ماسٹر مبارک علی صاحب نے ایک اخبار بھیجا جس نے سارے صفحہ پر میری پورے قد کی تصویر شائع کی ہے۔ امریکہ میں بھی تصویر چھپ رہی ہے ۔ اسی طرح اٹلی میں بغداد میں اور دیگر ممالک میں تصویریں اور مضامین شائع ہوئے اور اس ذریعہ سے شہرت ہوئی۔ آتے ہوئے جہاز میں سوئٹزر لینڈ کے قنصل کی بیوی بھی تھی۔ ہمارے دوستوں سے اس کی گفتگو ہوئی جب فوٹو د کھایا گیا تو کہنے لگی یہ تو دیکھا ہوا ہے ۔ پوچھا کس طرح؟ تو اس نے کہا کہ سینما میں۔ غرض اس قدر شہرت ہو گئی ہے کہ اب ہمارا بچہ بھی چلا جائے تو سمجھیں گے کہ اس کے پیچھے زبر دست جماعت ہے ۔ چنانچہ اس کا پتہ اس طرح معلوم ہوا کہ کابل کے خلاف پروٹسٹ کے جلسہ میں تین پادری شامل ہوئے جو بہت با اثر تھے ۔ ایک نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت آتا ہے جبکہ حکومتیں احمدیوں کے قبضہ میں ہوں گی۔ اس وقت یہ لوگ جو بنی نوع انسان کے لئے تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں ان کی نسلیں دیکھیں گی اور فخر کریں گی کہ ہمارے باپ دادے وہ تھے کہ لوگ انہیں بات بھی نہ کرنے دیتے تھے اور انہیں قتل کرتے اور ہر قسم کے دکھ دیتے تھے آج ہم ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں بادشاہ ہیں۔ اسی طرح پروفیسر براؤن جو عربی اور فارسی کے عالم ہیں ان کے ملنے کے لئے شیخ عبد الرحمن صاحب مصری حافظ روشن علی صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد جنہیں اب بھی بعض لوگ رحیم بخش کہتے ہیں بھیجا تو وہ کہنے لگا میں نے سمجھا تھا کہ کانفرنس مذاہب چند پاگا پاگلوں کے خیال کا نتیجہ ہے مگر جب آپ لوگوں کے حالات اخبارات میں پڑھے تو افسوس ہوا کہ میں اس میں شامل ہونے سے محروم رہا۔ اس نے کہا کہ میں آپ کے سلسلہ کی کتابیں پڑھوں گا۔ اس نے بتایا کہ آج ۱۲ بجے سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں حالانکہ ۴ بجے ملاقات کا وقت مقرر تھا۔ وہ آمد و رفت کا کرایہ دینے کے لئے اصرار کرتا رہا اور بڑی محبت سے اس نے رخصت کیا۔ پھر مسجد کے موقع پر ایسے ایسے لوگ آئے کہ جن کی امید نہ تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے شاہی کار روائی ہوتی ہے اور مختلف سلطنتوں کے وزراء آتے ہیں۔ بعض کی بعد میں چٹھیاں آئیں کہ افسوس ہم مجبوری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے ۔ ایک اخبار نے مجمع کی تصویر شائع کی اور لکھا کہ افسوس ہمارا قائم مقام شامل نہ ہو سکا مگر کار روائی شائع کی جاتی ہے ۔ ایک سلطنت کے نمائندہ