انوارالعلوم (جلد 8) — Page 614
انوار العلوم جلد ۸ ٦١٣ دورہ یورپ لکھتے جاتے ۔ اگر کوئی لفظ رہ جاتا تو کہتے یا اُستاد ذرا ٹھہریئے یہ لفظ رہ گیا ہے ۔ گویا انجیل کا وہ نظارہ تھا جہاں اے استاذ کر کے حضرت مسیح کو مخاطب کرنے کا ذکر ہے ۔ اگر کسی مولوی نے خلاف بولنا چاہا تو وہی لوگ اسے ڈانٹ دیتے۔ ایک مولوی آیا جو بڑا با اثر سمجھا جاتا تھا۔ اس نے ذرا نا واجب باتیں کیں تو تعلیم یافتہ لوگوں نے ڈانٹ دیا اور کہہ دیا کہ ایسی بیہودہ باتیں نہ کرو ہم تمہاری باتیں سننے کے لئے نہیں آئے۔ اس پر وہ چلا گیا اور رؤوسا معذرت کرنے لگے کہ وہ بیوقوف تھا اس کی کسی بات پر ناراض نہ ہوں ۔ یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔ پھر منارة البيضاء کا بھی عجیب معاملہ ہوا۔ ایک مولوی عبد القادر صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے ان سے میں نے پوچھا کہ وہ منارہ کہاں ہے جس پر تمہارے نزدیک حضرت عیسی نے اترنا ہے۔ کہنے لگے ۔ مسجد امویہ کا ہے ۔ لیکن ایک اور مولوی صاحب نے کہا کہ عیسائیوں کے محلہ میں ہے۔ ایک اور نے کہا حضرت عیسی آکر خود بتائیں گے ۔ اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کونسا منارہ ہے دیکھ تو چلیں۔ صبح کو میں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی ۔ اس وقت میں اور ذوالفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے ۔ جب میں نے سلام پھیرا ۔ تو دیکھا سامنے منارہ ہے اور ہمارے اور اس کے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے ۔ میں نے کہا یہی وہ منارہ ہے اور ہم اس کے مشرق میں تھے ۔ میں وہاں سفید منارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔ مسجد امویہ والے منار نیلے سے رنگ کے تھے ۔ جب میں نے اس سفید منارہ کو دیکھا اور پیچھے دو ہی مقتدی تھے تو میں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہو گئی۔ کہتے ہیں ”ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ " خدا نے ابتداء سے ہی ایسے اسباب پیدا کئے کہ خاص اشارات ظاہر ہونے لگے جہاز میں دوست میرے آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ جہاز کا ڈاکٹر آیا اور ہمیں دیکھتا رہا۔ پھر اس نے سب کو گنا۔ گننے کے بعد تھوڑی دیر سوچتا رہا۔ پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ مسیح اور اس کے بارہ حواری۔ ایسے فقرات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ پھر میں سمجھتا ہوں کہ مساجد ند ہی ترقی سے بہت بڑا تعلق رکھتی ہیں وہ مساجد نہیں جو ضد کی وجہ سے اس میں قدم کے فاصلہ پر بنائی جائیں ، بلکہ وہ جو محض خدا کی عبادت کے لئے بنائی جائیں وہ جماعت کی ترقی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لِّلَّذِي بَكَةً مُبْرَكا وَهُدًى لِلْعُلَمِينَ اے کہ دنیا میں گھر پہلے بننا ہی مسجد کے ذریعہ شروع ہوا اور خدا