انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 609

انوار العلوم جلد ۸ ۶۰۹ دورہ یورپ اخبارات میں چار پانچ چھ سات صفحے اشتہارات کے ہوتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کتنے لاکھ روپیہ ان کو اشتہاروں کا ملتا ہے اور وہ اپنے آپ کو کتنا طاقتور سمجھتے ہیں۔ مگر با وجود اس کے ہر موقع پر بڑے بڑے اخباروں کے نامہ نگار اور مضمون نویس آتے اور ایسے رنگ میں مضمون شائع کرتے کہ معلوم ہوتا انہیں ہم سے پوری ہمدردی ہے ۔ ہمارے قیام انگلستان کے زمانہ کا پہلا حصہ بھی خراب تھا اور پچھلا بھی خراب ہو گیا تھا۔ پہلا تو اس لئے کہ اس وقت انگلستان میں تعطیلات کا موسم تھا اور لوگ باہر گئے ہوئے تھے ۔ ایک بڑے آدمی نے بتایا کہ ان دنوں ۶۰ فیصدی لندن کی آبادی شہر سے باہر ہے ۔ اس وقت شہر میں غرباء رہ گئے ہیں۔ ورنہ وزراء پارلیمنٹ کے ممبر اور امراء سب صحت افزا مقامات پر چلے گئے ہیں ۔ ہم نے بھی دیکھا کہ جس محلہ میں ہم رہتے تھے سوائے ہمارے مکان کے آدھ آدھ میل تک ادھر اُدھر کوئی مکان نہ کھلتا تھا۔ دوست کہتے کہ ایک آدمی ہمارے قریب ہی رہتا جسے میں نے پندرہ بیس دن کے بعد دیکھا اور وہ بھی ہماری طرح باہر ہی کا تھا۔ ایسے وقت میں لوگوں کو ہماری طرف توجہ کرنا باکل غیر معمولی بات تھی۔ اس کے بعد جب لوگ لندن میں آنے لگے تو معا خطرہ پیدا ہو گیا کہ پارلیمینٹ ٹوٹنے والی ہے چنانچہ یہی بات ہوئی ۔ اور جس طرح ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ کٹائی کے دنوں میں زمینداروں کو کسی رشتہ دار کا جنازہ پڑھنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی یہی حال وہاں الیکشن یا اس وقت جب پارلیمینٹ ٹوٹنے والی ہو ہوتا ہے۔ اس وقت اگر کسی کی ماں بھی مر جائے تو توجہ نہیں کرتے ۔ ایک ایک دن میں ہیں ہیں پچیس پچیس تقریریں کرتے ہیں۔ اگرچہ تقریر دس بارہ منٹ کی ہوتی ہے۔ موٹر پر بیٹھ کر دوڑتے پھرتے ہیں اور جابجا تقریر میں کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں یہ ان کی حالت ہوتی ہے۔ مگر ایسے ایام میں بھی جب ہمارے آدمیوں نے بڑے بڑے آدمیوں سے ملنا چاہا تو باوجود اس کے کہ وزارت سخت خطرہ میں تھی انہوں نے آمادگی ظاہر کی۔ اور ایک بہت بڑے لارڈ نے جو بہت بااثر ہیں ہمارے ایک سا ں ہمارے ایک ساتھی کو چھی لکھی کہ ان سے گفتگو کرے اس طرح دوسری سیاسی پارٹیوں نے ہم سے ملنے کی خواہش کی۔ حتی کہ وزیر اعظم نے بھی لکھا۔ گو پارلیمنٹ کے ٹوٹنے کی وجہ سے اسے وقت نہ مل سکا۔ غرض یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہاں جو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انگریز ہندوستانیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں وہاں پر معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے سوا وہ کسی کی عزت ہی نہیں کرتے ۔ ہماری طرف ان لوگوں کے متوجہ ہونے کی مثال یہاں کے حالات کے رو سے اس قسم کی مثال ہو سکتی ہے کہ کسی جگہ گشتیوں کا اکھاڑہ لگا ہو جہاں دیہاتوں