انوارالعلوم (جلد 8) — Page 601
انوار العلوم جلد ۸ ۶٠١ دورہ یورپ اور نعمت اسلام کے کامل اتباع سے ملتی ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود اسلام کی اس سچائی کا خود ایک ثبوت تھے۔ اور ان کی وفات کے ساتھ یہ ثبوت ختم نہیں ہو گیا بلکہ آج بھی زندہ ہے۔ اور آپ کے متبعین میں یہ نعمت اب تک موجود ہے اور ہمیشہ پائی جائے گی اس مقام پر لیڈی لیٹن کے ایک ہمراہی لڑکے نے سوال کیا) لڑکا:۔ روح اور خدا کے متعلق ہم ہندو لوگ بھی مانتے ہیں۔ امتیازی بات کیا ہے؟ اگر ہندو ازم اور اسلام میں ان مسائل کے متعلق خفیف فرق ہو تو قابل لحاظ نہیں ہوتا۔ حضرت:۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ خفیف فرق قابل لحاظ نہیں ہوتا۔ اگر چہ میں تو یہ مانتا ہی نہیں کہ خفیف فرق ہے بلکہ اسلام اور موجودہ ہندو ازم میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن آپ کی بات مان کر میں کہتا ہوں کہ خفیف فرق جس کو آپ کہتے ہیں قابل لحاظ نہیں ہو تا عموماً بڑے بڑے نتائج پیدا پیدا کرتا ہے۔ یہاں تک کہ زندگی اور اور موت کے نتائج نتائج پیدا پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی ہی چیز ہے اس کی مقدار ایک حد تک تریاق ہے اور اس میں ذرا سا اضافہ ہو جائے تو وہی تریاق سمی کیفیت اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔ میں ایک ڈاکٹر کے پاس طبی مشورہ کے لئے گیا اس نے مجھے نکس وامیکالے بوند اور سوڈا بائی کارب ۶ گرین بتائے اور کہا کہ نہ اس سے کم ہو نہ زیادہ اب بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ اگرے کی بجائے ۸ یاء کی بجائے پانچ کردی جاویں تو کوئی بڑا فرق نہیں۔ مگر اس نے کہا کہ اگر اس سے کچھ بھی کم یا زیادہ ہو تو فائدہ نہیں ہو گا۔ اور یہ بات بالکل درست تھی۔ امتیازات اور فرق مقدار کے لحاظ سے بعض وقت نظر نہیں آتے مگر کیفیت اور اثر کے لحاظ سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ اسلام اور ہندو ازم میں جو سب سے بڑا امتیازی نقطہ ہے وہ یہی ہے کہ اسلام اس خدا کی طرف بلاتا ہے جو ہمیشہ بولتا ہے اور کلام کرتا ہے۔ جس طرح پر وہ ہمیشہ سے دیکھتا اور سنتا ہے اور آج بھی اس میں ایسے لوگ ہیں جو خدا سے کلام کرتے ہیں مگر ہندوازم کوئی ایسا شخص پیش نہیں کر سکتا۔ ایک دوسرا لڑکا:۔ ہندوازم کی بابت آپ کا کیا خیال ہے؟ حضرت:۔ ہندو ازم اپنی ابتدائی منزل میں اس زمانہ کی ضرورت کے موافق ایک خدائی تعلیم تھی مگر امتدادِ زمانہ سے اس کی شکل بدلتی گئی اور وہ حقیقت اس سے دور ہو گئی۔ وہی لڑکا:۔ پھر اب اس کے ماننے کی کیوں ضرورت نہیں؟ حضرت:۔ اول تو وہ حقیقت جاتی رہی انسانی تصرفات نے اس کو بگاڑ کر کچھ اور ہی بنا دیا۔