انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 599

انوار العلوم جلد ۸ ۵۹۹ دورہ یورپ چاہئے کہ انسان کے اعمال و افعال میں اس کا پورا رنگ پایا جاوے۔ اور وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہو جاوے۔ بہت سے لوگ یہ اقرار تو کرتے ہیں کہ وہ خدا پر اور اس کے ایک ہونے پر ایمان لاتے ہیں لیکن جب امتحان کا وقت آتا ہے تو فیل ہو جاتے ہیں ان کے افعال اس کی تائید نہیں کرتے اور نہ اس ایمان کے ثمرات ان میں پائے جاتے ہیں جس ایمان کے ثمرات نہ ہوں وہ ایک خشک درخت کی طرح ہے جو کاٹ کر جلانے کے قابل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان انسان کے اندر ایک پاک تبدیلی کر دیتا ہے۔ اور جس جس قدر یہ یقین ترقی کرتا ہے انسان خدا کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی صفات کا مظہر ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود می ایمان اور یقین پیدا کرتے تھے انہوں نے صرف یہ نہیں کہا کہ خدا دیکھتا ہے یا بولتا ہے بلکہ اپنے متبعین کو اپنے عمل سے دکھا دیا اور خود ان میں یہ قوت پیدا کر دی کہ وہ خدا کو بولتے ہوئے سن لیں۔ غرض پہلی تعلیم ان کی خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت کے متعلق یہ تھی کہ ایک غیر متزلزل اور خدا نما یقین پیدا کریں۔ اور کامل طور پر حقوق اللہ کی شناخت ہو۔ دوسری بات آپ نے یہ تعلیم کی کہ انسان با اخلاق انسان کیونکر بنتا ہے۔ اس کے لئے آپ نے اول اخلاق کی حقیقت بتائی کہ اخلاق محض اس کا نام نہیں ہے کہ انسان کسی سے نرمی سے پیش آتا ہے یا سختی کرنے سے خاموش ہو رہتا ہے۔ کیونکہ طبعی طور پر یہ باتیں جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک بکری کتنی نرم ہوتی ہے لیکن کوئی نہیں کہتا کہ بکری بڑی با اخلاق ہے۔ اخلاق حقیقت میں طبعی قوتوں کی تعدیل اور بر محل استعمال کا نام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس قدر قومی انسان کو دیئے گئے ہیں یہ سب اخلاقی قوتیں اور اخلاق ہیں۔ انسان کے اندر اخلاقی روح پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود نے اولا اخلاق کی حقیقت بتائی۔ پھر یہ سمجھایا کہ اخلاق میں انسان کی ترقی تدریجی ہوتی ہے۔ جس طرح پر وہ جسمانی طور پر ترقی کرتا ہے تو تدریجی ترقی ہوتی ہے۔ ایک دن کا بچہ ایک دن میں ہی ایک پختہ مغز انسان کی طرح نہیں ہو جاتا۔ اس لئے اخلاقی ترقی کے مدارج ہیں۔ اور اخلاق کے مختلف شعبے ہیں اور ہر شعبہ میں ترقی کے لئے خاص اصول اور قواعد ہیں۔ مثلاً پاک بازی اور عفت کے لئے جب اسلام تعلیم دیتا ہے تو وہ ان امور کی اصلاح سے شروع کرے گاجو عفت کے خلاف گناہوں کے مبادی ہوتے ہیں۔ اور پھر اخلاقی تعلیم میں قرآن مجید صرف میں نہیں کہتا کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ وہ ہر حکم ہرامرونہی کے وجوہ و علل بتاتا ہے۔ اور دلائل کے