انوارالعلوم (جلد 8) — Page 596
انوار العلوم جلد ۸ ۵۹۶ دورہ یورپ فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسے انسان ملتے ہیں جو ایسے سلوک سے دلیر ہوتے ہیں اور ان کی اصلاح نا ممکن ہو جاتی ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو اس سلوک سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسری طرف عمل کے معیار پر یہ کبھی بھی صحیح ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً روز مرہ کے واقعات کو چھوڑ کر گذشتہ جنگ میں جو عیسائیوں کے درمیان شروع ہوئی کیا اس پر عمل کیا جا سکتا تھا۔ جرمن اگر ایک مقام مانگتے اور فرینچ یا انگریز کہہ دیتے کہ نہیں ایک کیا تم پیرس اور لندن بھی لے لو بلکہ بر خلاف اس کے ان کا خوب مقابلہ کیا گیا اور ان کو عملاً شکست دے دی تو معلوم ہوا کہ یہ تعلیم اصلاح کی قوت اور اثر اپنے اندر نہیں رکھتی۔ بر خلاف اس کے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے۔ جَزَاؤُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ ۲ یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے۔ اس حصہ میں تعزیر اور تادیب کے قانون کو بتا دیا ۔ جو شخص بدی کرے اس کو اسی قدر سزا دی جاوے لیکن اگر عفو موجب اصلاح ہو تو جو شخص عفو کرتا ہے اور ایسے محل پر کہ وہ موجب اصلاح ہو گا تو اس کا اجر اللہ کے ہاں سے پائے گا۔ قرآن شریف نے سزا اور عفو دونوں کو محل اصلاح قرار دیا ہے۔ یعنی اگر عفو بدی پر دلیری پیدا کرتا ہے اور جرات دلاتا ہے تو ایسے لوگ جن کی اصلاح بغیر سزا کے نہیں ہو سکتی ان کو سزا دو لیکن جن لوگوں کی حالت اس کے خلاف ہو ان پر عفو کا اثر ہوتا ہو اور وہ اس سے اصلاح پا سکتے ہوں تو ان کو عفو کر کے اصلاح کا موقع دو۔ یہ حقیقی تعلیم ہے جو علم النفس اور اصول اصلاح کے موافق عملاً جاری ہو سکتی ہے ۔ اب آپ مقابلہ کر کے دیکھیں کہ انجیل کی تعلیم کو اس سے کیا نسبت۔ میں کہتا ہوں کہ ایسی جامع تعلیم دنیا کی کسی کتاب میں نہیں۔ (الفضل ۲۰- نومبر ۱۹۲۴ء)