انوارالعلوم (جلد 8) — Page 594
انوار العلوم جلد ۸ ۵۹۴ دورہ یورپ بات پر ایمان ہو کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے نبیوں کو بھیجا ہے اور آخری نبی جس کے ذریعہ شریعت کو کامل کی وہ محمد ال ہیں ۔ آئندہ نبوت کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن کوئی نئی شریعت نہ آئے گی اور نبوت کا یہ مقام آنحضرت ا کی کامل اطاعت اور محبت کے بغیر کسی کو حاصل نہ ہو گا اس دروازہ سے داخل ہو کر یہ انعام ملے گا۔ اسی طرح اس بات پر ایمان ہو کہ خدا تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے ۔ پھر اس بات پر ایمان ہو کہ اعمال کی جزاء و سزا ہے اور خدا تعالیٰ نے اشیاء کے اندازے مقرر کر دیئے ہیں جو اعمال ہم کرتے ہیں اچھے یا برے ان کے لئے ہم جوابدہ ہیں وہ ہم خود کرتے ہیں اس لئے ان کا کا بدلہ پائیں گے ۔ اعمال کے جزاء اء وسزا و کے بھی مدارج ہیں۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ خدا سے محبت کرو اور ایسے اصولوں کے موافق کرو کہ خدائی تمام صفات کا ظہور تم میں ہو جاوے گویا خدا کی تصویر ہو جائے ۔ خدا تعالیٰ نے بائبل میں جو کہا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا اس کا یہی مطلب ہے کہ انسان ان اخلاق اور صفات کو اپنے اندر لے جو خدا تعالیٰ کی وہ مانتا ہے ۔ پھر اسلام سکھاتا ہے کہ تمام دنیا سے محبت کریں اور کامل اخلاقی زندگی بسر کریں۔ پھر اسلام تعلیم دیتا ہے کہ مرنے کے بعد بعث ہو گا اور روح زندہ رہے گی اور یہ زندگی رہے گی یہاں تک کہ وہ اس کمال کو پہنچ جاوے جو اس دنیا میں حاصل نہیں ہو سکا۔ محدود زندگی غیر محدود خدا کی شان کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ انسان کی روزانہ ترقی خدا کی لامحدود طاقتوں کو ظاہر کرتی ہے اس لئے مرنے کے بعد بھی ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ بعض باتوں سے عام طور پر اسلام یہودیت اور عیسائیت سے ملتا ہے مگر بعض میں نہیں ۔ یہودیت یا عیسائیت کی اصل تعلیمات بطور ابتدائی تعلیمات کے ہیں مگر اسلام نے آکر تمام تعلیمات کو کامل کر دیا اور اصل حقیقت کو پیش کر دیا ۔ مثلاً اسلام کہتا ہے اخلاقی زندگی بسر کرو۔ دوسرے مذاہب بھی یہ تعلیم تو دیتے ہیں لیکن آپ کسی گرجا میں جاویں یا کسی لیکچرار کا لیکچر سنیں وہ چند باتیں پیش کرکے کہے گا کہ یہ اخلاقی تعلیم ہے۔ اسلام اتناہی نہیں کرتا وہ اس اخلاقی تعلیم کی حقیقت کو بیان کرے گا ان اسباب اور ذرائع کو بتائے گا جن کے اختیار کرنے سے وہ اخلاقی قوتیں نشو و نما پا سکیں ۔ وہ ان اثرات کو بیان کرے گا جو اس سے سو سائٹی پر ہوتے ہیں۔ یه یہ کہہ دینا کہ تم سب سے محبت کرو بظاہر ایک تعلیم اخلاق کی ہے اور ضرور ہے مگر صرف اتنا کہہ دینے سے کام نہیں چل سکتا۔ سب سے کس طرح محبت کی جاوے اس کے کیا مدارج ہوں