انوارالعلوم (جلد 8) — Page 592
انوار العلوم جلد ۸ اسلام کیا ہے ۵۹۲ رمس :- میں اسلام سے محض نا واقف ہوں کیا آپ اس کو بیان کریں گے ؟ دورہ یورپ حضرت صاحب :- میں اسلام کو احمدی نقطۂ نگاہ سے بیان کروں گا کیونکہ میرے اعتقاد میں حقیقی اسلام وہی ہے جو خدا کا نبی لایا ہے اور جس کو خدا نے اسی غرض سے بھیجا ہے۔ اس نے ہم کو بتایا ہے کہ اسلام خدا کی کامل فرمانبرداری کا نام ہے ۔ دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جو کہے کہ خدا کے کامل فرمانبردار نہ بنو۔ ہری ہر عیسائی زرتشتی، یہودی یہی کہتا ہے مگر صہ لہتا ہے مگر صرف کہہ کہہ دینے سے کام نہیں بنتا دیکھنا یہ ہے کہ اس تعلیم کا اثر اور ثمر کہاں پایا جاتا ہے ۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں یہ فرق ہے کہ دوسرے مذاہب یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالی پہلے بولتا تھا مگر اب خاموش ہے مگر اسلام یہ کہتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں سے کلام کرتا آیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ اس نے ہمیشہ اپنے نبیوں کو بھیجا اور اب بھی بھیجا ہے جو لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے ہیں جب انسان ان کو قبول کرتا ہے اور ان کا انکار نہیں کرتا تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کا فرمانبردار ار ہے۔ بہت سے لوگ اپنے مذہب کو اس لئے مانتے ہیں کہ وہ اس گھر میں پیدا ہوئے اور 99 فیصدی ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔ عیسائی یا ہندو یا مسلمان اس لئے اس مذہب کو مانتے ہیں کہ وہ ایسے والدین کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ مگر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو تحقیقات اور غور کے بغیر کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک رسم و عادت ہے۔ خدا تعالیٰ یہ نہیں چاہتا اس لئے وہ اپنے نبی کو بھیجتا ہے تاکہ حقیقت ظاہر ہو ۔ آپ کے سامنے ایک انگور کا خوشہ ہے اور تم کہتی ہو کہ انگور ہے تو معلوم ہوا کہ تم انگور کو جانتی ہو لیکن اگر یہ دعوی کرو کہ میں انگور کو جانتی ہوں مگر جب سیب سامنے کر دیا جاوے تو اس کو کہہ دو کہ انگور ہے تو یہ بات کھل جاوے گی کہ تم انگور اور سیب میں تمیز نہیں کر سکتیں ۔ اسی طرح ایک شخص گذشتہ نبیوں کو مانتا ہے اور کہتا ہے کہ میں خدا کے نبیوں پر ایمان لایا لیکن جب دوسرا سچا نبی آیا اور اس کے سامنے اس کا دعوی پیش کیا گیا تو انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ مفتری ہے ۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ وہ سچے اور جھوٹے نبی میں فرق نہیں کر سکتا اور نہیں سمجھتا اور پہلے کو بھی نہیں مانتا اس لئے خدا ہمیشہ نبی بھیجتا ہے تاکہ انسان کی مخفی قوتوں کا اظہار ہوتا رہے ۔ اسلام حقیقی معنوں میں اس مذہب پر بولا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ ہمیشہ نبی آتے ہیں تاکہ حقیقت نبوت معلوم ہو اور خدا کی ہستی پر تازہ بتازہ ایمان پیدا ہو کر اس کو یقین اور مسرت کے مقام پر پہنچادے۔