انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 576

انوار العلوم جلد ۸ ۵۷۶ دورہ یورپ پس چونکہ آپ نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے ذریعہ ایک نئی جماعت بنائی جاتی جس طرح کہ ہمیشہ سے نبیوں کے زمانہ میں نئی جماعتیں بنائی جاتی رہی ہیں ۔ پس خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمد یہ کے ساتھ وابستگی کے ساتھ معلق کر دی ہے اور اس سلسلہ کے بغیر اسلام کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ انسانی عقل انہیں واقعات کے متعلق سوچ سکتی ہے جن کے سب اسباب سامنے موجود ہوں مگر خدا تعالیٰ اس غیب سے واقف ہے جس تک انسان کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔ پس فیصلہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے ۔ اے ہمشیرگان اور برادران! آپ لوگوں نے اس مذہب کو چھوڑ کر جس پر آپ کے باپ دادا چل رہے تھے ایک نئے مذہب کو اختیار کیا ہے آپ کی یہ قربانی قابل قدر ہے مگر آپ کو معلوم ہے کہ اسلام کیا ہے؟ اسلام کے معنے کامل طور پر سپرد کر دینے کے ہیں اور جب تک کہ انسان اپنے آپ آپ کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے کامل طور پر سپرد نہیں کر دیتا وہ نام میں تو تو مسلم ہوتا ہے مگر حقیقت میں مسلم نہیں ہوتا مگر کیا نام حقیقت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے ؟ کوئی نام نفع نہیں بخشا جب تک اس کے ساتھ حقیقت بھی نہ ہو۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ اس وقت وہ ان لوگوں کے ذریعہ سے اسلام کو فتح اور غلبہ دے جو احمدیت سے منسوب ہیں تو پھر اگر ہمارا یہ دعویٰ کہ ہم خدا تعالیٰ کو سب کچھ سپرد کر چکے ہیں سچا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہیں جو اس زمانہ میں بلند کی گئی ہے ۔ تمام نبی اور تمام قانون اسی لئے عزت کے مستحق ہوتے ہیں کہ وہ اس ہستی کی طرف سے آتے ہیں جو کبھی غلطی نہیں کرتی۔ اگر نوح علم کے زمانہ میں نوح کی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا۔ اگر ابراہیم کے زمانہ میں ابراہیم کی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بولتا تھا۔ اور موسیٰ کے زمانہ میں اور پھر مسیح کے زمانہ میں ان کی زبان پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اسی لئے کہ وہ خدا تعالٰی کے بلائے سے بولتے تھے ۔ اور اگر محمد رسول الله ال کی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی طرف بلاتے تھے ورنہ یہ لوگ ہمارے جیسے ہی آدمی تھے۔ اگر خدا تعالی کی آواز ان کے پیچھے نہ ہوتی تو ان کو کوئی رتبہ حاصل نہ تھا۔ پس اصل آواز خدا کی ہے خواہ وہ کسی منہ سے نکلے اس کا قبول کرنا ضروری ہے اس کی طرف سے بے پروائی کرنے سے کبھی روحانی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی ۔