انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 573

انوار العلوم جلد ۸ ۵۷۳ دورہ یورپ کے لئے بڑھا تو ایک صاحب جن کی نسبت بعد میں معلوم ہوا کہ شوقی آفندی صاحب کے والد تھے مجھ سے ملے اور پوچھا کہ آپ ہمارے مکان پر گئے تھے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ میرے سیکرٹری اور بعض اور دوست گئے تھے ۔ کیا انہوں نے آپ کو بتایا نہیں میں نے ان کو آپ کی طرف بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں مجھے نہیں ملے۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو مولوی صاحب پاس نہ تھے کسی نے بتایا کہ وہ اندر چلے گئے ہیں ۔ اس کے بعد شوقی صاحب کے والد نے کہا کہ مکان پر چلئے اور کچھ ٹھہریئے۔ میں نے ان کو بتایا کہ ہم گھر سے ولایت کے لئے نکلے ہیں۔ جہازوں کے ٹکٹ لئے ہوئے ہیں۔ وقت پر نہ پہنچنے سے ہزاروں کا نقصان ہوتا ہے۔ راستہ میں حسب پروگرام پندرہ دن کے لئے اترے ہیں کہ دمشق جائیں اور تبلیغ کریں اس میں سے اب گل آٹھ دن باقی ہیں۔ ہم یہاں کسی طرح ٹھر سکتے ہیں۔ اور دمشق کے سفر کو جس کی خاطر ہم ادھر آئے ہیں کیونکر چھوڑ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں معذور سمجھیں۔ اس پر وہ اصرار ر کرنے لگے کہ نہیں یہاں ضرور ٹھریئے۔ میں نے ان کو بتایا کہ دیکھئے اسباب ریل میں رکھا ہوا ہے آدمی سوار ہو چکے ہیں۔ وقت کی پابندی ہے ہم کس طرح ٹھر سکتے ہیں۔ اتنے میں آدمی آیا کہ ریل چلنے والی ہے چلئے۔ میں معذرت کر کے اندر چلا گیا۔ یہ ان کی دعوت کی حقیقت ہے اور تبلیغ کے موقع کی اصلیت۔ انگور کے خوشہ کا واقعہ یہ ہے کہ جب ہم ہوٹل میں پہنچے تو ایک خوشہ انگور کا میں نے اپنے کمرہ میں دیکھا اور پوچھا کہ یہ کیسا ہے ؟ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جو لوگ شوقی صاحب کے مکان پر گئے تھے ان کو تحفہ کے طور پر انہوں نے دیا تھا۔ میں نے اسی وقت ان کو بلا کر کہا کہ آپ نے خوامخواہ اعتراض سر پر لیا ہے۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں یہ خوشہ طعنہ بن کر رہے گا۔ اس کو میرے پاس سے لے جاؤ ۔ تم کو نہ لینا چاہیے تھا ورنہ بدلہ دینا چاہیئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم معذرت کرتے تھے مگر نو کرنے کہا کہ آپ اس کو لے جاویں۔ میں نے نے کہا کہ یہ لوگ تو مجاوروں کی طرح ہیں آپ کو زائر سمجھے ہوں گے بطور تبرک کے دے دیا۔ ڈپٹی گورنر حیفا کے متعلق جو بات لکھی ہے وہ بھی سرتا پا جھوٹ ہے۔ سر کلیٹن صاحب ایکٹنگ گورنر فلسطین نے میری دعوت کی اور خود ہی کہا کہ حیفا کے نائب گورنر کو وہ فون کریں گے کہ ہر طرح آپ کے آرام کی فکر کریں آپ ان کو اطلاع دے دیں۔اسی طرح انہوں نے اور اپنے دوستوں کے نام دمشق اور روم کے لئے چٹھیاں لکھ کر دیں۔ جن میں سے ایک بوجہ برطانیہ کے وزیر اٹلی صاحب کی عدم موجودگی کے اب تک ہمارے پاس ہے۔ جب ہم حیفا پہنچے تو چونکہ انتظام