انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 569

3 انوا را اعلوم جلد ۸ ۵۶۹ دورہ یورپ چڑائے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی خیال رکھا جاوے۔ بعض وقت انسان پر ایسے آتے ہیں کہ وہ بہت نرم ہوتا ہے اور اس پر اثر ہوتا ہے۔ وہریوں پر بھی ایسے وقت آجاتے ہیں اس لئے کبھی یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یہ معمولی بات ہے یا کیا فائدہ ہوگا۔ ان کا محبت اور اخلاق سے مذہبی پابندی کا خیال رکھا جاوے۔ اس کے بعد لندن کے مبلغ کی موزونیت پر مِنْ وَجْهِ تبادلہ خیالات ہو تا رہا اور حضرت اس کے متعلق ضروری فیصلہ فرماتے رہے اور مبلغین کو یہاں کے لوگوں سے کام لینے کے طریق پر مختصر ہدایات دیتے رہے۔ پھر نیچر کی تعریف کا سوال جو کانفرنس میں بھی اٹھا تھا پیش ہوا۔ حضرت نے فرمایا : نیچروہ قانون ہے جس کے ذریعہ ہر چیز اپنی بناوٹ اور ساخت کے مطابق کام کرتی ہے ۔ نیچر گورننگ چیز نہیں ہوتی اگر ایسا ہو تا تو یہ سائنس دان خدا کی بھی کوئی نیچر بتاتے مگر ایسا نہیں ہے ۔ لاء (قانون) اصل چیز کی بناوٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر چیز کے دوسری چیزوں سے مل کر جو افعال سرزد ہوتے ہیں وہ اس کی نیچر ہے۔ حضرت خلیفة المسیح کو لا اله الا اللہ کے معنے یہ سمجھائے گئے تھے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی حیثیت مستقل نہیں اور یہ درست ہے کہ دنیا کی ہر چیز دوسری چیز سے کوئی نہ کوئی نسبتی تعلق رکھتی ہے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اسی اصول کو بتایا ہے وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ 1 اس میں اسی نسبتی تعلق کی طرف اشارہ ہے ۔ غرض نیچر بذات خود کوئی گورننگ چیز نہیں ہے جنہوں نے ایسا سمجھا ہے غلطی کھائی ہے۔ ۶۵ اس کے بعد افریقہ کے مسٹر اشوڈی نے بیعت کی اس نے پہلے سے تحریری بیعت کی ہوئی بیعت تھی مگر آج اسے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بھی بیعت کی۔ (الفضل ۱۱۔ نومبر ۱۹۲۴ء)