انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 567

انوار العلوم جلد ۸ ۵۶۷ دورہ یورپ میں ایسا رہے کہ لوگ اعتراض نہ کر سکیں اور وہ اپنے کریکٹر کو مضبوط رکھے اس کا آخر اثر ہوتا ہے۔ پھر جن باتوں پر یورپ اعتراض کرتا ہے بار بار ان کو پیش کیا جاوے مثلاً کثرت ازدواج کا مسئلہ ہے ایسے بہت سے ا لوگ ملیں گے جو اس کے مؤید ہیں بعض اخبارات میں فرضی نام سے مضمون لکھ دیتے ہیں ایسے لوگوں سے اسی اخبار کی معرفت خط و کتابت ہو سکتی ہے اور پھر تعلقات بڑھا کر ان کے پیچھے پڑو جو اس کے مؤید ہوں۔ ان سے اس قسم کی سوسائٹیاں بناؤ ایسی سوسائٹیاں خود غلط فہمیوں کو دور کر دیں گی اور ان اصولوں کو توڑ دیں گی جو ہماری راہ میں روک ہو سکتے ہیں ۔ مذہبی نقطہ خیال کو مد نظر رکھ کر عیسائیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ اگلے نبیوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں اور بعض قومی ضروریات اس کی مقتضی ہوتی ہیں۔ جب کچھ لوگ پیدا ہو جائیں گے تو وہ آپ دوسروں سے بحث کریں گے ۔ عیسائی مذہب مذہب میں جو جو یہ فرقے یونیٹیرین وغیرہ پیدا ہوئے ہیں یہ اسی طرح ہوئے ہیں۔ اگر اس طریق پر عمل ہو تو کچھ عرصہ کے بعد ہمارا سوشل رسوخ بڑھ جائے گا اور لوگ باتیں سننے لگیں گے ۔ اسی طرح طلاق کا مسئلہ ہے ۔ اس مسئلہ کے ماہر جو قانون دان ہیں یا قانون ساز کمیٹیوں کے ممبر ہیں ان سے ملو اور ان کو اسلام کی مکمل تعلیم مسئلہ طلاق کے متعلق بتاؤ ۔ جب وہ اس مسئلہ کے سارے پہلوؤں کو دیکھیں گے تو اسلام کی تعلیم کو مکمل اور ہر طرح قابل عمل اور ضروری یقین کرنے لگیں گے ۔ اس طرح پر جو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں وہ دور ہو جائیں گی اور جب ایک علمی اور قانون دان طبقہ کی طرف سے اس کی تائید اور تصریح ہو گی تو آسانی ہو جائے گی۔ غرض اپنے کام کے متعلق پہلے سے غور کرو کہ کس طرح پر وہ زیادہ مفید اور با اثر ہو سکتا ہے۔ کام کرنے والے کی نگاہ ایک طرف نہ ہو بلکہ اسے چاہئے کہ چاروں طرف نگاہ رکھے جرنیل کا یہی کام ہے ۔ بلکہ ان سے جو لوگ یہاں تحقیق، تعلیم یا تبادلہ خیالات کے لئے آئیں ان کے متعلق اس امر کا خاص طور پر خیال رکھا جاوے کہ کوئی ایسی حرکت نہ ہو جس سے ان کو یہ احساس ہو کہ ہماری ہتک کی گئی ہے ان سے ، اخلاق اور تکریم سے پیش آؤ کہ یہ ہمارا فرض ہے ۔ اگر کوئی بات ان کی ناپسند بھی ؟ ہو تو اپنے اخلاق سے اسے درست درست کرو۔ ظاهری ظاہری صفائی کا خاص طور پر خیال رکھا جاوے اسلام اس کی ہدایت کرتا ہے اور یہاں تو یہ حالت ہے کہ اس کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے ۔ ہمارے ملک میں تو ۔