انوارالعلوم (جلد 8) — Page 560
انوار العلوم جلد ۸ ۵۶۰ دورہ یورپ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کانفرنس مذاہب کے اختتام پر لیکچر فرموده مؤرخه ۳- اکتوبر ۱۹۲۴ء) سرڈیزن راس ! بہنو اور بھائیو! میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے انگلستان کے بعض علماء کے دل میں تحریک پیدا کی کہ ایسی کانفرنس منعقد کریں کہ مختلف مذاہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کے متعلق اظہار خیالات کریں اور اس طرح پر ہر مذہب کے لوگوں کو غور کرنے کا موقع ملے کہ کسی بات یا امر میں دوسرے مذاہب آپس میں اتحاد رکھتے ہیں اور وہ خیال یا خنوں پر بنیاد نہیں رکھتے۔ میں اولاً اس کا نفرنس کا بنیادی خیال رکھنے والے سرر اس کا عام ڈپلیکیٹس (DELEGATES) اور سامعین کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور پھر مسٹر لافٹس ہیر ر اور مس شار پلز اور ایگزیکٹو کمیٹی کے دوسرے ممبروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی شبانہ روز محنتوں کا نتیجہ یہ کانفرنس ہے ۔ اس کے بعد میں اس بات کی امید ظاہر کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اس کا نفرنس کا موقع ملے گا کیونکہ ایک خیال پیدا کر کے چھوڑ نہیں دینا چاہئے ۔ انسان کا یہ کام نہیں کہ ایک بچہ پیدا کر کے پھر اس کو جنگل میں چھوڑ دیا جاوے اس لئے ضروری ہے کہ تحریک جو پیدا ہو گئی ہے اسے جاری رکھا جاوے اور زیادہ وسعت کے ساتھ اس کو پھیلایا جاوے تاکہ دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو ۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہر مذہب کے لوگ اس موجودہ کا نفرنس کو زیادہ مفید اور وسیع بنانے کے لئے ہمیشہ جد وجہد کریں گے کیونکہ یہ ایک ایسا کاز (CAUSE) ہے جس کے لئے سب کی مشترک کوشش کی ضرورت ہے اور رفتہ رفتہ یہ ایک نقطہ پر جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو جائے گی اور حقیقی اتحاد پیدا کر سکے گی۔ میں نے دیکھا ہے کہ اس کا نفرنس میں شریک ہونے کے لئے بعض لوگ فرانس اور ویلز سے