انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 554

انوار العلوم جلد ۸ ۵۵۴ دورہ یورپ فائدہ حاصل کرے گا تو اسے معاف کردو۔ اور اگر یہ دیکھو کہ وہ شخص بہت گندہ ہو چکا ہے اور اگر تم اسے معاف کرو گے تو وہ یہ سمجھ لے گا کہ اس شخص نے مجھ سے ڈر کر مجھے سزا نہیں دی یا نہیں دلوائی اور اس وجہ سے وہ بدی پر دلیر ہو جائے گا اور اور لوگوں کو بھی دکھ دے گا تو اسے اس کے جرم کے مطابق سزا دو ۔ کیونکہ ایسے شخص کو معاف کرنا دوسرے ناکردہ گناہ لوگوں پر ظلم پر م ہے جو ایسے شخص کے ہاتھ سے تکلیف اٹھا رہے ہیں یا آئندہ اٹھا سکتے ہیں۔ (۱۰) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ کبھی کسی دوسری حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ جنگ صرف بطور دفاع کے جائز ہے اور اس وقت بھی اگر دوسرا فریق اپنی غلطی پر پشیمان ہو کر صلح کرنا چاہے تو صلح کر لینی چاہئے۔ (1) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ انسان کی روح مرنے کے بعد ترقی کرتی چلی جاوے گی اور کبھی فنانہ ہوگی حتی کہ گنگار لوگ بھی ایک مدت اپنے اعمال کی سزا بھگت کر خدا کے رحم سے بخشے جائیں گے اور دائمی ترقی کی سڑک پر چلنے لگیں گے۔ کفار کی مدینہ پر چڑھائی اہل مکہ نے جب دیکھا کہ مدینہ میں آپ کو اپنی تعلیم کے عام طور پر پھیلانے کا موقع مل گیا ہے اور لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے ہیں تو انہوں نے متواتر مدینہ پر چڑھائیاں کرنی شروع کیں مگر ان لشکر کشیوں کا نتیجہ بھی ان کے حق میں برا نکلا اور رسول کریم ملی تعلیم کی اس سے بھی برتری ثابت ہوئی کیونکہ گو بڑی بڑی تیاریوں کے بعد مکہ والوں نے مدینہ پر حملہ کیا اور مسلمان ہر دفعہ تعداد میں ان سے کم تھے ، عموماً ایک مسلمان تین اہل مکہ کے مقابلہ پر ہوتا تھا، مگر پھر بھی غیر معمولی طور پر خدا تعالٰی نے مسلمانوں کو فتح دی اور اہل مکہ کو شکست ہوئی ۔ بعض دفعہ بے شک مسلمانوں کو عارضی تکلیف بھی پہنچی مگر حقیقی معنوں میں کبھی شکست نہیں ہوئی۔ اور ان لشکر کشیوں کے دو نتیجے نکلے ۔ ایک تو یہ کہ بجائے اس کے کہ رسول کریم ملی ام تباہ ہوتے آپ سارے عرب کے بادشاہ ہو گئے اور دوسرے یہ کہ ان لڑائیوں میں آپ کو کئی ایسے اخلاق دکھانے کا موقع ملا جو بغیر جنگوں کے مخفی رہتے اور اس سے آپ کی اخلاقی برتری ثابت ہو گئی اسی طرح یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ نے کیسی وفاداری اور قربانی کی روح ایک مردہ قوم میں پھونک دی تھی۔