انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 544

انوار العلوم جلد ۸ ۵۴۴ دورہ یورپ ہیں ۔ اس کے بعد ابوبکر نے ایسے نوجوانوں کو جمع کر کے جو ان کی نیکی اور تقوی کے قائل تھے سمجھانا شروع کیا اور سات آدمی اور رسول کریم میں ہم پر ایمان لائے۔ یہ سب نوجوان تھے جن کی عمر ۱۲ سال سے لیکر ۲۵ سال تک تھی۔ آسان ۔ مکہ کے ایمان لانے والوں پر مصائب کے ہجوم سچائی کا قول کرنا آسان کام نہیں ہجوم لوگ جن کا گزارہ ہی بتوں کے معبدوں کی کا ہی بتوں حفاظت اور مجاورت پر تھا۔ وہ کب اس تعلیم کو برداشت کر سکتے تھے کہ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم دی جائے؟ جو نہی ایمان لانے والوں کے رشتہ داروں کو معلوم ہوا کہ ایک ایسا مذہب مکہ میں جاری ہوا ہے اور ان کے عزیز اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ انہوں نے ان کو تکلیف دینی شروع کی ۔ حضرت عثمان کو ان کے چچا نے باندھ کر گھر میں قید کر دیا اور کہا کہ جب تک اپنے خیالات سے توبہ نہ کرے میں نہیں چھوڑوں گا۔ اور زبیر ایک اور مؤمن تھے جن کی عمر ۱۵ سال کے قریب تھی۔ ان کو انکے رشتہ داروں نے قید کر لیا اور تکلیف دینے کے لئے جس جگہ ان کو بند کیا ہوا تھا اس میں دُھواں بھر دیتے تھے مگر وہ اپنے ایمان پر پختہ رہے اور اپنی بات کو نہ ا۔ ایک اور نوجوان کی والدہ نے ایک نیا طریق نکالا اس نے کھانا کھانا چھوڑ دیا اور کہا جب تک تو اپنے آباء کی طرح عبادت نہیں کرے گا اس وقت تک میں کھانا نہیں کھاؤں گی مگر اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں دنیا کے ہر معاملہ میں ماں باپ کی فرمانبرداری کروں گا مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ان کی نہیں مانوں گا کیوں کہ خدا تعالی کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہے۔ چھوڑا ۔ غرض سوائے ابوبکر اور خدیجہ کے آپ پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے سب نوجوان تھے جن کی عمر ۱۵ سال سے لے کر ۲۵ سال تک کی تھیں۔ پس یوں کہنا چاہئے کہ محمد میں ہم جنہوں نے بوجہ یتیم ہونے کے نہایت چھوٹی عمر سے اپنے لئے راستہ بنانے کی مشق کی جب ان کو خدا تعالٰی نے مبعوث کیا تو اس وقت بھی آپ کے گرد نوجوان ہی آکر جمع ہوئے پس اسلام اپنی ابتداء کے لحاظ سے نوجوانوں کا دین تھا۔ اہل مکہ کو علی الاعلان تبلیغ ہر نبی کے لئے عام نے ایک دن ایک بلند جگہ پر کھڑے ہو کر مختلف گھرانوں کا نام لے کر بلانا شروع کیا۔ چونکہ لوگ آپ پر بہت ہی اعتبار کرتے تھے سب لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور جو لوگ خود نہ آسکتے تھے انہوں نے اپنے قائم مقام بھیجے تاکہ سنیں کہ آپ کیا کہتے ہیں