انوارالعلوم (جلد 8) — Page 524
انوار العلوم جلد ۸ ۵۲۴ دورہ یورپ رواداری کا فقدان اردو زبان اصل قرار دی جائے اور اس اختلاف میں پھر قومی اور مذہبی تعصب کا دخل ہے۔ ہندی کا زیادہ رواج ہندوؤں میں ہے اور اردو کا مسلمانوں میں۔ اگر ملک میں ہندی زبان کو سرکاری زبان قرار دیا جاوے تو تو اکثر مسلمانوں کو ملازمت سے علیحدہ ہونا پڑے۔ کچھ دنوں سے بنگالی کی نسبت بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی سرکاری زبان ہونے کی امیدواری کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ تمام اختلاف مل کر ہندوستان کی طاقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر افسوس کہ ان اختلافات کو مٹانے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ ان کو بڑھایا جاتا ہے۔ رواداری بالکل نہیں ہے مختلف مذہب تو الگ رہے خود ایک مذہب کے ساتھ تعلق رکھنے والوں میں ایک دوسرے سے انصاف کی امید نہیں ہوتی۔ ابھی ایک احمد یہ مشنری کو افغانستان میں صرف مذہبی اختلاف کی وجہ سے سنگسار کیا گیا ہے۔ مجھے پرسوں ہی گورنمنٹ آف انڈیا کا تار ملا ہے جس میں اس نے تصدیق کی ہے کہ وہ خالص مذہبی مخالفت کی وجہ سے مارا گیا ہے۔ مگر انسانی ہمدردی کا یہ حال ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی کالج دیو بند کے پروفیسروں نے جلسہ کرکے امیر افغانستان کو تار دیا ہے کہ اس نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے اور اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح کرے گا۔ ان اختلافات کی وجہ سے قومی فوائد کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مثلاً سود کالین دین قریبا سب کا سب ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا بہت بڑا اثر غرباء پر پڑتا ہے جو مسلمان ہیں۔ گورنمنٹ بھی چاہتی ہے کہ کچھ اس کا تدارک ہو مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ یہ مصیبت ان کے گلے سے اُترے لیکن ہندو ہندو زمیندار جو خود خود بھی اس بلاء کے پنجہ میں پھنسے ہوئے ہیں ہر اس کوشش کا مقابلہ کرتے ہیں جو سود کے محدود کرنے کے لئے ہو اس لئے کہ اس کا زیادہ فائدہ ہندوؤں کو پہنچتا ہے۔ اس وقت سود کا ایسا خطر ناک بوجھ غرباء پر ہے کہ بعض دفعہ سو روپیہ لے کر لوگوں کو چار چار پانچ پانچ ہزار دینا پڑتا ہے۔ گورنمنٹ نے کو آپریٹو بنکوں کا سلسلہ شروع کیا ہے مگر اس کا زیادہ تر فائدہ پنجاب کے بعض علاقوں کو پہنچا ہے۔ یوپی۔ بہار وغیرہ کے علاقوں میں اب تک اس بلاء سے لوگوں کو نجات نہیں ہوئی۔ ہند و برات اگر باجہ بجاتی ہوئی مسلمانوں کی مسجد کے سامنے سے گزر جائے تو اس کو مارنے کو دوڑ پڑتے ہیں اور اگر مسلمان کسی ہندو مندر کے پاس۔ ں سے گزریں تو ہندوان پر حملہ کرتے ہیں۔ محرم اور عید پر ہندو لڑ پڑتے ہیں اور دسہرہ اور دیوالی پر مسلمان اور وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ