انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 517

انوار العلوم جلد ۸ ۵۱۷ ہے۔ پس اس کو بھی قربانی کرنی چاہیے اور میں نے یہ قاعدہ بنا دیا ہے۔ سائل:۔ یہ بہت ہی اچھا قانون - ہے۔ ایک اور کیا کرے۔ دورہ یورپ شخص:۔ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ شادی کرلے اور پہلی بیوی کو شکایت ہو تو وہ حضرت:۔ میں اپنی جماعت میں اگر ایسا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے اچھا اور برابر کا سلوک نہیں کرتا تو خواہ اس کی بیوی شکایت بھی نہ کرے میں دخل دیتا ہوں اور بازپرس کرتا ہوں۔ ایک شخص نے ایسا کیا اور اس کی بیوی نے بھی شکایت نہیں کی تھی مگر میرے علم میں جب اس کا سلوک آیا تو میں نے فوراً اس پر نوٹس لیا۔ تعدد ازدواج کے سلسلہ میں ایک اور سوال ہے ازدواج اور بتائی عبدا علیم: تعدد جہاں قرآن مجید نے اس کا حکم دیا ہے وہاں بتائی کا ذکر ہے۔ اس سے کیا تعلق؟ دوسرے مسلمانوں نے اس کو عام کس طرح کر لیا یعنی چار کی حد بندی کیونکر کی جس انداز میں قرآن نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ معین نہیں کرتا بلکہ غیر معین ہے۔ حضرت:۔ بعض لوگوں نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ حد بندی نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ حد بندی کردی ہے اس لئے وہی معنی مقدم ہوں گے جو آنحضرت میں ہم نے کئے ہیں۔ یتافی کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔ اس کے متعلق مثل حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص کو وس یتیم بچے مل گئے۔ اگر اس کے اپنے اور بچے بھی ہوں تو ایک عورت کہاں تک خدمت کر سکے گی ایسے موقع پر ضروری ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے تاکہ سب کی ہو سکے۔ یہ ایک صورت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خود ان یتامی کی ماں سے شادی کرلے تاکہ وہ ان بیتائی کی پرورش میں پوری دلچسپی لے سکے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ پہلی بیوی کو انٹرسٹ (INTREST) نہ ہو۔ تو یہ تعلق اور جو ڑ اس آیت کا ہے۔ اور اس سے مقصد بیتائی کی صورتوں میں سے ایک کثرت ازدواج ہے۔ حضرت جابر الله عنہ کا واقعہ احادیث میں ہے کہ انہوں نے بڑی عمر کی عورت سے شادی کی۔ اور آنحضرت نے دریافت کیا تو انہوں نے وجہ یہ بتائی کہ میری بہنیں چھوٹی عمر کی تھیں، یہ ان کی خبر گیری کرسکے گی۔ غرض بتائی کے ساتھ دوسری شادی کا تعلق ہے۔ عام اس کو اس طرح پر