انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 506

انوار العلوم جلد ۸ ۵۰۶ دورہ یورپ پروفیسر عبدالحکیم:۔ ایک قوم ہے جو ہمیشہ تنگ کرتی ہے گھروں پر آکر حملہ کرتی ہے تو پھر ہماری قوم کا حق ہے کہ سیلف ڈیفینس (SELF DEFENCE) حفاظت خود اختیاری کے طور پر اس کو مفتوح رکھیں۔ میں ان جنگوں کو جو اسباب صداقت پر مبنی ہوں جائز سمجھتا ہوں امپیریل ازم کو جائز نہیں سمجھتا۔ حضرت:۔ کیا ایسی صورت میں یہی جائز ہے کہ ان پر قبضہ رکھا جاوے یا اسی قدر کافی ہے کہ شکست دے دی جاوے۔ عبدالحکیم: جیسی صورت ہو اس کے موافق عمل کیا جاتا ہے۔ جیسے جرمنی کے متعلق کیا گیا ہے۔ کابل کو فتح کرنا آسان ہے مگر کابل پر حکومت مشکل ہے یہ ایک ضرب المثل ہے۔ حضرت:۔ خیر کابل کی حکومت کی مشکلات تو پہاڑی علاقہ کی وجہ سے ہیں یہ بحث نہیں ۔ آپ کے اس جواب سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ بعض اسباب اور وجوہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے مفتوح قوم کو دبائے رکھنا جائز ہے۔ عبدالحکیم :۔ ہاں بشرطیکہ ان کو تباہ نہ کیا جائے۔ حضرت:۔ کہاں تک دبایا جائے؟ اس کی حد بندی کون کرے گا اور کون حج ہو گا۔ عبدالحکیم :۔ ہوتا ہے۔ زبردست اپنا فیصلہ آپ کرتا ہے اپنا حج آپ ہوتا ہے اس کا سو سات ہیں کا حضرت:۔ اگر یہ اصول درست ہے تو آپ کے پوائنٹ آف ویو (POINT OF VIEW) سے یہ سوال حل ہو گیا۔ انگریزوں نے اپنا فیصلہ آپ ہی کر لیا۔ عبدالحکیم:۔ نہیں یہاں تو موریلٹی (MORALITY) کے پوائنٹ آف ویو سے گا۔ (اخلاقی نقطہ نگاہ سے) دیکھا جاوے حضرت: موریٹی کے پوائنٹ آف ویو میں بھی تو اختلاف ہے تو جب اخلاقی نقطہ نگاہ مختلف ہوئے تو پھر کس پہلو پر فیصلہ ہوگا۔ عبدالحکیم :۔ میں تو یونسی درمیان میں آگیا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔ اور حضرت کا سلسلہ کلام پھر سے طالب علم سے شروع ہوا) حضرت:۔ بہتر ، پھر وہی سوال آگیا کہ اگر حضرت ابوبکر" کا زمانہ ہو اور غیر مسلم علاقے بغاوت کریں۔ اور کہیں کہ ہم آپ کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے آپ کو کوئی حق نہیں تو کچھ آپ