انوارالعلوم (جلد 8) — Page 495
انوار العلوم جلد ۸ ۴۹۵ دورہ یورپ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی عظیم قربانی (۷ استمبر ۱۹۲۴ء کو لندن میں معزز انگریزوں اور ہندوستانیوں کی جو میٹنگ حکومت کابل کے سنگدلانہ فعل کے خلاف منعقد ہوئی تھی اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مولوی نعمت الله خان صاحب کی شہادت کے متعلق حسب ذیل مضمون پڑھا تھا) أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ آپ نے ہمارے شکریہ صدمہ میں ہم سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ آپ لوگ یہ تو پڑھ چکے چکے ہوں گے کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب احمدی کو ۳۱۔ اگست کے دن کابل گورنمنٹ نے سنگسار کرایا ہے صرف اس وجہ سے کہ اس نے احمدیت کو کیوں قبول کیا ہے ۔ مگر آج آپ لوگوں کو اختصار کے ساتھ اس واقعہ کی تمام کیفیت سنانا چاہتا ہوں تا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ فعل کیسانا روا تھا۔ مولوی نعمت اللہ خان کابل کے پاس ایک گاؤں کے رہنے والے شہید مرحوم کے حالات تھے۔ احمدی ہونے پر ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ سلسلہ کی تعلیم بھی حاصل کریں اور وہ قادیان چلے آئے ۔ جہاں وہ احمد یہ دینی کالج میں داخل ہوئے ۔ وہ ابھی کالج ہی میں تعلیم پا رہے تھے کہ کابل کے احمدیوں کی تعلیم کے لئے ان کو وہاں بھیجنا پڑا۔ چنانچہ ۱۹۱۹ء میں وہ وہاں چلے گئے اور چونکہ افغانستان میں احمدیوں کے لئے امن نہ تھا مخفی طور پر اپنے بھائیوں کو سلسلہ کی تعلیم سے واقف کرتے رہے۔ اس عرصہ میں گورنمنٹ افغانستان نے کامل مذہبی آزادی کا اعلان کیا اور ہم نے سمجھا کہ اب احمدیوں کو اس علاقہ میں امن ہو گا مگر پیشتر اس کے کہ وہاں کی جماعت کے لوگ اپنے آپ کو علی الاعلان ظاہر کرتے مناسب سمجھا گیا کہ