انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 492

انوار العلوم جلد ۸ ۴۹۲ دورہ یورپ دنیا کو دکھائیں اور یہی کام ہم کر رہے ہیں ممکن ہے تفاصیل میں کوئی اختلاف نظر آئے مگر روح وہی ہے جس سے میں اتفاق کرتا ہوں اور میں خوش ہوں کہ آپ نے یہ خواہش پیش کی ہے میں اس ایڈریس کو سن کر اور بھی خوش ہوا ہوں کہ اشاعت اسلام کا سوال آپ لوگوں کے زیر نظر ہے اور ہم تو اس کام کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور اس سوال کے لئے میں نے یہ سفر کیا ہے مجھ کو اس بات سے اور بھی خوشی ہوئی ہے کہ اس ایڈریس کو پڑھنے والے صاحب ہندو ہیں۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ جو شخص طلب صادق کے ساتھ حق کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور کوشش کرتا ہے اس پر حقیقت کھل جاتی ہے اور وہ راہ پالیتا ہے ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو پورے طور پر کوشش کرتے ہیں ہم کو اپنی ذات کی قسم ہے کہ سچائی کی طرف اسے کھینچ کر لاتے ہیں۔ جب انسان اس روح کو لے کر کوشش کرتا ہے تو نتیجہ بابرکت ہوتا ہے ۔ غرض میں آپ کی ان نیک خواہشوں کو جو اشاعت اسلام کے موافق ہیں بہت خوشی اور قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ مجھ سے آپ منافقانہ رنگ کی امید نہ رکھیں ۔ جس تعلیم کو میں سمجھتا ہوں کہ وہ حق ہے اور وہی حق ہے جس کے بغیر اسلام کامیاب نہیں ہو سکتا میں اُسی کو پیش کروں گا۔ اور دنیا کی کوئی چیز اور طاقت اس حق کے پیش کرنے سے مجھ کو روک نہیں سکتی اس لئے کہ سب سے پیاری چیز میرے لئے وہی ہے ۔ پس میں پھر کہتا ہوں کہ آپ کی ایسی نیک خواہشوں کی خواہشوں کی قدر کرنے کے باوجود آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ سے یہ امید نہ رکھیں کہ میں منافق کا پارٹ پلے (Part Play) کروں گا۔ میں ہمیشہ سے اس امر کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ ایک شخص آزادی ضمیر کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرے کچھ پرواہ نہیں اگر وہ میرے خلاف بھی ہو ۔ میں نے اپنے خلاف سخت سے سخت خیالات کے اظہار کو بھی خوشی سے سنا ہے ۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں۔ بارہ سال کے قریب ہوتے ہیں جب میں حج کے لئے آیا تھا تو اس جہاز میں تین بیرسٹر بھی تھے جو ہندوستان سے آ رہے تھے انہوں نے امتحان پاس کر لیا تھا۔ ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں جہاز پر مذہب کے متعلق گفتگو ہوتی رہی اور اس سلسلہ میں وہ حضرت صاحب کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے رہے مگر میں نے ظاہر نہ ہونے دیا تاکہ ان کو اپنے خیالات کے اظہار میں روک نہ ہو اور وہ اپنے اعتراضات کو چھپائیں نہیں ۔ میں ان کے اعتراضات کا جواب دیتا ان سے